Aasan Quran - Hud : 14
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ
فَالْتَقَطَهٗٓ : پھر اٹھا لیا اسے اٰلُ فِرْعَوْنَ : فرعون کے گھر والے لِيَكُوْنَ : تاکہ وہ ہو لَهُمْ : ان کے لیے عَدُوًّا : دشمن وَّحَزَنًا : اور غم کا باعث اِنَّ : بیشک فِرْعَوْنَ : فرعون وَهَامٰنَ : اور ہامان وَجُنُوْدَهُمَا : اور ان کے لشکر كَانُوْا : تھے خٰطِئِيْنَ : خطا کار (جمع)
اس طرح فرعون کے لوگوں نے اس بچے (یعنی حضرت موسیٰ ؑ) کو اٹھا لیا تاکہ آخر کار وہ ان کے لیے دشمن اور غم کا ذریعہ بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور ان کے لشکر بڑے خطار کار تھے۔ (3)
3: خطا کار ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کافر اور گناہگار لوگ تھے، اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بچے کو اٹھا کر اپنے حق میں غلطی کی، کیونکہ وہی بچہ آخر ان کے زوال کا سبب بنا
Top