آسان قرآن
Aasan Quran · 28. Al-Qasas · Ayah 8
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ﴿8﴾
- فَالْتَقَطَهٗٓپھر اٹھا لیا اسے
- اٰلُ فِرْعَوْنَفرعون کے گھر والے
- لِيَكُوْنَتاکہ وہ ہو
- لَهُمْان کے لیے
- عَدُوًّادشمن
- وَّحَزَنًااور غم کا باعث
- اِنَّبیشک
- فِرْعَوْنَفرعون
- وَهَامٰنَاور ہامان
- وَجُنُوْدَهُمَااور ان کے لشکر
- كَانُوْاتھے
- خٰطِئِيْنَخطا کار (جمع)
Translation · Aasan Quran
اس طرح فرعون کے لوگوں نے اس بچے (یعنی حضرت موسیٰ ؑ) کو اٹھا لیا تاکہ آخر کار وہ ان کے لیے دشمن اور غم کا ذریعہ بنے۔ بیشک فرعون، ہامان اور ان کے لشکر بڑے خطار کار تھے۔ (3)
Tafseer · Aasan Quran
3: خطا کار ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کافر اور گناہگار لوگ تھے، اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بچے کو اٹھا کر اپنے حق میں غلطی کی، کیونکہ وہی بچہ آخر ان کے زوال کا سبب بنا