Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟
(23:112) قال ای قال اللہ تعالیٰ شانہ۔ کم۔ اگر استفہامیہ ہو تو سوال کے لئے آتا ہے۔ کتنی مقدار ۔ کتنی تعداد ۔ کتنی مدت۔ اس کی تمیز ہمیشہ مفرد منصوب ہوتی ہے ۔ جیسے کم درھما عند تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ کبھی تمیز محذوف ہوتی ہے جیسے آیۃ ہذا میں۔ کم لبثتم ای کم زمانا لبثتم۔ تم کتنی مدت ٹھہرے۔ یا اس کی تمیز عدد سنین ہے۔ ای کم عدد سنین لبثتم۔ (2) اگر خبر یہ ہو تو تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اور تمیز مجرور ہوتی ہے ۔ جیسے کم قریۃ اھلکناھا۔ ہم نے کتنی ہی بستیوں کو برباد کردیا۔ تمیز سے پہلے اکثر من آتا ہے جیسے کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ (2:249) کتنی ہی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں اللہ کے حکم سے۔ عدد سنین۔ بحساب سالوں کے۔ سالوں کی تعداد کے حساب سے۔ یہ کم کی تمیز ہے یا کم ظرف زمان ہے لبثتم کا۔ ای کم زمانا لبثتم اور عدد بدل ہے کم سے اور سنین بدل ہے عدد سے یعنی سالوں کے حساب سے تم (دنیا میں) کتنی مدت رہے۔
Top