Anwar-ul-Bayan - Al-Qasas : 20
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ
وَجَآءَ : اور آیا رَجُلٌ : ایک آدمی مِّنْ : سے اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ : شہر کا پرلا سرا يَسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰمُوْسٰٓى : اے موسیٰ اِنَّ : بیشک الْمَلَاَ : سردار يَاْتَمِرُوْنَ : وہ مشورہ کر رہے ہیں بِكَ : تیرے بارے میں لِيَقْتُلُوْكَ : تاکہ قتل کر ڈالیں تجھے فَاخْرُجْ : پس تو نکل جا اِنِّىْ : بیشک میں لَكَ : تیرے لیے مِنَ : سے النّٰصِحِيْنَ : خیر خواہ (جمع)
اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا کہ موسیٰ (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ میں تمہارا خیر خواہ ہوں
(28:20) اقصا المدینۃ : اقصی افعل التفصیل کا صیغہ ہے قصوی مؤنث قصا یقصوا قصو وقصاء (قصی مادہ) دور ہونا۔ یسعی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ سعی مصدر (باب فتح) دوڑتا ہوا۔ السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں فلما بلغ معہ السعی (37:102) جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا۔ مناسک حج میں سعی صفا اور مروہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہے۔ یسعی رجل کی صفت ہے یا اس کا حال ہے۔ الملا۔ اسم جمع معرف باللام۔ سرداروں کی جماعت۔ یاتمرون بک۔ یا تمرون مضارع جمع مذکر غائب۔ ایتمار (افتعال) مصدر۔ امر مادہ۔ باہم مشورہ کرنا۔ اگر ایتمار کے صلے میں باء مذکور ہو جیسا کہ اس آیت میں ہے تو کسی کے متعلق باہم مشورہ کرنے اور قصد کرنے کا معنی ہوتا ہے۔
Top