Tafseer-e-Haqqani - Al-Ahzaab : 67
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ
وَجَآءَ : اور آیا رَجُلٌ : ایک آدمی مِّنْ : سے اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ : شہر کا پرلا سرا يَسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰمُوْسٰٓى : اے موسیٰ اِنَّ : بیشک الْمَلَاَ : سردار يَاْتَمِرُوْنَ : وہ مشورہ کر رہے ہیں بِكَ : تیرے بارے میں لِيَقْتُلُوْكَ : تاکہ قتل کر ڈالیں تجھے فَاخْرُجْ : پس تو نکل جا اِنِّىْ : بیشک میں لَكَ : تیرے لیے مِنَ : سے النّٰصِحِيْنَ : خیر خواہ (جمع)
نہیں پکار تے یہ لوگ اللہ کے سوا مگر دیویوں کو اور وہ نہیں پکارتے کسی کو سوائے سرکش شیطان کے
آیت 117 اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اِنٰثًاج وَاِنْ یَّدْعُوْنَ الاَّ شَیْطٰنًا مَّرِیْدًا r ُیہاں پہلی مرتبہ مشرکین مکہ کی بات بھی ہو رہی ہے۔ مشرکین مکہ نے اپنی دیویوں کے مؤنث نام رکھے ہوئے تھے ‘ جیسے لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ۔ لیکن اصل میں نہ لات کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی منات کی کچھ حقیقت ہے۔ البتہ شیطان ضرور موجود ہے جو ان کی پکار سن رہا ہے
Top