Tafseer-e-Majidi - Al-Qasas : 20
وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ
وَجَآءَ : اور آیا رَجُلٌ : ایک آدمی مِّنْ : سے اَقْصَا الْمَدِيْنَةِ : شہر کا پرلا سرا يَسْعٰى : دوڑتا ہوا قَالَ : اس نے کہا يٰمُوْسٰٓى : اے موسیٰ اِنَّ : بیشک الْمَلَاَ : سردار يَاْتَمِرُوْنَ : وہ مشورہ کر رہے ہیں بِكَ : تیرے بارے میں لِيَقْتُلُوْكَ : تاکہ قتل کر ڈالیں تجھے فَاخْرُجْ : پس تو نکل جا اِنِّىْ : بیشک میں لَكَ : تیرے لیے مِنَ : سے النّٰصِحِيْنَ : خیر خواہ (جمع)
اور ایک شخص شہر کے کنارہ سے،27۔ دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) اہل دربار آپ کے متعلق مشورہ کررہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں،28۔ سو آپ چلے جائیے میں آپ کا بڑا خیر خواہ ہوں
27۔ یعنی بڑے فاصلہ پر اس مقام سے جہاں شاہی کمیٹیاں منعقد ہوتی رہتی تھیں۔ (آیت) ” رجل “ یہ شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مومن مخلص تھا۔ 28۔ یعنی سرکاری کمیٹی میں گفتگو اس موضوع پر ہورہی ہے کہ آپ کو اس مصری نے یہ سنا تو چاہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرے۔ “ (خروج۔ 2: 15)
Top