Anwar-ul-Bayan - Al-Qasas : 44
وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ
وَمَا كُنْتَ : اور آپ نہ تھے بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ : مغربی جانب اِذْ : جب قَضَيْنَآ : ہم نے بھیجا اِلٰى مُوْسَى : موسیٰ کی طرف الْاَمْرَ : حکم (وحی) وَ : اور مَا كُنْتَ : آپ نہ تھے مِنَ : سے الشّٰهِدِيْنَ : دیکھنے والے
اور جب تم نے موسیٰ کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کی) غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ (اس واقعے کے) دیکھنے والوں میں تھے
(28:44) وما کنت ۔۔ یہاں قرآن مجید کے من جانب اللہ وحی ہونے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ ولسم کے من جانب اللہ رسول ہونے کے دلائل دئیے جا رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے یہ جو آپ نے اپنے مخاطبین کو حضرت موسیٰ کے ساتھ بیتے ہوئے واقعات جن کو وقوع پذیر ہوئے مدت مدیر و عرصہ بعید گزر چکا ہے بیان کئے ہیں کہ اس امر کی دلیل نہیں ہیں کہ آپ کے پاس ان کے علم کا ذریعہ بجز وحی کے اور کوئی نہیں ہے اور آپ پر وحی کا نازل ہونا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آپ فرستادہ رب جلیل ہیں۔ یہاں تین باتیں بطور دلیل پیش کی گئی ہیں (1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دئیے گئے آپ نہ وہاں موجود تھے اور نہ ہی شاہدین میں سے تھے۔ (2) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں تھے اور جو ان کے ساتھ وہاں گزرا آپ وہاں مقیم نہ تھے۔ (3) جب کوہ طور پر رب تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمائی آپ وہاں نہ تھے۔ لیکن اب جب وحی کے ذریعہ آپ کو بتایا گیا تو آپ نے جملہ تفصیلات مبنی برحق کھول کھول کر اپنے مخاطبین کو سنا دیں۔ وحی کے ثبوت میں قرآن مجید میں اور بھی کئی جگہ ایسے دلائل موجود ہیں مثلا :۔ (1) ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک۔۔ (3:44) یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم آپ پر ان کی وحی کر رہے ہیں (2) ذلک من انباء الغیب نوحیہا الیک ۔۔ (11:49) (3) ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک ۔۔ (12:102) (4) ذلک من انباء القری نقصہ علیک ۔۔ (11:100) یہ ان بستیوں کی بعض خبریں تھین جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں۔ وما کنت : ای وما کنت حاضرا۔ تو حاضر نہ تھا۔ تو موجود نہ تھا۔ خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔ بجانب الغربین۔ مضاف مضاف الیہ ۔ مغرب والی سمت۔ غربی جانب۔ یہ موصوف کی اپنی صفت کی طرف اضافت کی مثال ہے۔ جیسے مسجد الجامع۔ اصل میں الجانب الغربی تھا۔ یا موصوف محذوف ہے۔ اور صفت کو اس کا قام مقام لایا گیا اصل میں بجانب المکان الغربی تھا۔ یہاں مراد وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو تورات کی تختیاں دی گئیں تھیں۔ قضینا الی ۔۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم الی کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی ہیں کہ ہم نے بھیجا تھا۔ ہم نے پہنچایا تھا۔ ہم نے دیا تھا۔ قضی الامر الیہ معاملہ کسی تک پہنچانا۔ آیت ہذا میں الامر سے مراد توریت ہے یا نبوت۔ الشاھدین۔ گواہ ۔ شہادت دینے والے۔ دیکھنے والے۔ مشاہدہ کرنے والے۔ بچشم خود دیکھنے والے۔ اشارہ یہاں ان ستر لوگوں کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ کے ہمراہ کوہ طور پر گئے تھے۔ سورة الاعراف میں ان کا ذکر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا (7:155) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر مرد انتخاب کئے ہمارے وقت موعود (یا جائے موعود) کے لئے۔
Top