Fi-Zilal-al-Quran - Maryam : 42
وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
وَقِيْلَ : اور کہا گیا يٰٓاَرْضُ : اے زمین ابْلَعِيْ : نگل لے مَآءَكِ : اپنا پانی وَيٰسَمَآءُ : اور اے آسمان اَقْلِعِيْ : تھم جا وَغِيْضَ : اور خشک کردیا گیا الْمَآءُ : پانی وَقُضِيَ : اور پورا ہوچکا (تمام ہوگیا) الْاَمْرُ : کام وَاسْتَوَتْ : اور جا لگی عَلَي الْجُوْدِيِّ : جودی پہاڑ پر وَقِيْلَ : اور کہا گیا بُعْدًا : دوری لِّلْقَوْمِ : لوگوں کے لیے الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع)
اور ہم نے موسیٰ کو اس وقت کتاب توریت شریف دی جب کئی امتوں سے پہلے تباہ کرچکے تھے جیسے عاد اور ثمود وغیرہ یہ کتاب لوگوں کو راہ سوجھانے والی اور ہدایت اور رحمت تھی اس لئے دی گی تھی کہ وہ نصیحت لیں یا اس کو5 یاد رکھیں
5 ۔ حضرت ابو سعید ؓ خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” توراۃ کے اترنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی قبیلے یا نسل یا اسم یا بستی کو آسمان سے عذاب بھیج کر تباہ نہیں کیا سوائے ” اصحاب سبت “ کے جو بند رہنا دیئے گئے۔ (قرطبی) فرعون کو غرق کرنے بعد عذاب کی بجائے جہاد شروع کردیا تاکہ لوگوں کی اصلاح اور تادیب ہوتی رہے۔
Top