Ashraf-ul-Hawashi - Aal-i-Imraan : 27
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ
اَلَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ : جنہیں ہم نے کتاب دی مِنْ قَبْلِهٖ : اس سے قبل هُمْ بِهٖ : وہ اس (قرآن) پر يُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں
تورات کو کم کر کے دن میں ملا دیتا ہے اور دن کو کم کر کے رات میں ملا دیتا ہے5 اور جیتا مردے سے نکا لتا ہے ( مثلا نطفے اور انڈے سے جاندار اور مردہ چیتے سے نکلاتا ہے مثلا نطفہ اور انڈا جاندار سے اور تو جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے6
5 اس سے موسموں کے اعتبار سے رات اور دن کے بڑھنے اور گھٹنے کی طرف اشارہ ہے۔6 حاٖفظ طبرانی (رح) نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ قل اللھم تابغیر حساب میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے جس کی تلاوت کر کے دعا کی جائے تو اسے قبولیت حاصل ہوتی ہے۔ حضرت معاز ؓ نے اپنے اوپر قرض بڑھ جانے کی شکایت کی تو آنحضرت ﷺ نے انہیں اس آیت کے تلاوت کرنے اور اس کے ساتھ یہ دعا پڑ ھنے کی ہدایت فرمائی : رحمان الدنیا والا خرۃ رحیمھما تعطی متشا منھماوتمنع من تشا ارحمنی رحمۃ تغنینی مھا رحمۃ من سواک اللھم اغنی من الفقرواقض عنی الدنیا : اے دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے تو جسے چاہتا ہے عنایت کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے مجھ پر ایسی رحمت فرماکر اس کے بعد دوسروں کی رحمت سے بےنیاز ہوجاوں۔ اے اللہ مجھے فقر سے غنی کر دے اور میرا قرض ادا فرمادے۔ (ابن کثیر۔ شوکانی )
Top