Tafseer-e-Baghwi - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟
112۔ قال کم لبثتم۔ حمزہ اور کسائی کا قول ہے۔ کہ یہ قل ان، ہے اور امرونہی کے معنی میں ہے۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ آپ کہیے اے کافرو، یہاں پر کلام کو واحد کے قائم مقام قرار دیتے ہیں مراد اس سے جماعت ہے ۔ جب اس کا معنی مفہوم ہو اوریہ بھی جائز ہے ک ہخطاب ان میں سے ہر ایک کو ہو۔ ای قل یا ایھا الکافرون۔ ابن کثیر نے پڑھا ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ خبر ہے کیونکہ دوسرا جملہ اس کا جواب ہے اور دوسرے قراء نے ان دونوں کو ای سے ہی پڑھا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار سے کہیں گے کہ تم کتناعرصہ دنیا میں ٹھہرے ہو۔ فی الارض، دنیا اور قبر میں۔ عدد سنین۔
Top