Tafseer-e-Mazhari - Maryam : 20
قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا
قَالَتْ : وہ بولی اَنّٰى : کیسے يَكُوْنُ : ہوگا لِيْ : میرے غُلٰمٌ : لڑکا وَّ : جبکہ لَمْ يَمْسَسْنِيْ : مجھے چھوا نہیں بَشَرٌ : کسی بشر نے وَّ : اور لَمْ اَكُ : میں نہیں ہوں بَغِيًّا : بدکار
مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں
قالت انی یکون لی غلم ولم یمسسنی بشر ولم اک بغیا۔ مریم ( علیہ السلام) نے (تعجب سے) کہا ‘ میرے لڑکا کیسے ہوگا مجھے تو کسی بشر نے نہیں چھوا۔ مس کرنے سے بطور کنایہ نکاح کے بعد جماع کرنا مراد ہے ‘ زنا کے موقع پر مساس کا لفظ نہیں بولا جاتا بلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ میں نے برا کام نہیں کیا میں نے خباثت نہیں کی زنا کی نفی کا اظہار حضرت مریم ( علیہ السلام) نے لَمْ اَکُ بَغِیًّا کہہ کر کردیا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ میں نے کسی انسان سے نہ قربت بالنکاح کی نہ زنا۔ پھر میرے لڑکا کہاں سے ہوگا۔
Top