Asrar-ut-Tanzil - Aal-i-Imraan : 152
وَ مَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤى اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ٘
وَمَا كُنْتَ : اور تم نہ تھے تَرْجُوْٓا : امید رکھتے اَنْ يُّلْقٰٓى : کہ اتاری جائے گی اِلَيْكَ : تمہاری طرف الْكِتٰبُ : کتاب اِلَّا : مگر رَحْمَةً : رحمت مِّنْ : سے رَّبِّكَ : تمہارا رب فَلَا تَكُوْنَنَّ : سو تو ہرگز نہ ہوتا ظَهِيْرًا : مددگار لِّلْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے لیے
اور جو لوگ یہودی ہیں ان پر ہم نے حرام کیا تھا جو تجھ کو پہلے سنا چکے اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا پر وہ اپنے اوپر آپ ظلم کرتے تھے4
4 سورة " انعام " آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِيْ ظُفُرٍ ۚ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُوْمَهُمَآ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَآ اَوِ الْحَوَايَآ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ۭذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِبَغْيِهِمْ ڮ وَاِنَّا لَصٰدِقُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :146) کے فوائد میں اس کا بیان گزر چکا، ملاحظہ کرلیا جائے یہاں مقصد یہ ہے کہ جو چیز خدا تعالیٰ نے سب کے لیے یا کسی خاص قوم کے لیے معین وقت تک حرام کی ہے، عین حکمت ہے کسی بشر کو حق نہیں کہ اس میں تصرف کر کے حرام کو حلال یا حلال کو حرام بنائے۔
Top