Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کہ تم برسوں کی گنتی کے اعتبار سے زمین میں کتنے دن رہے
1۔ ابن ابی حاتم نے ایفع بن عبدالکلاعی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ جنت والوں کو جنت میں داخل فرمادیں گے اور دوزخ والوں کو دوزخ میں تو جنت والوں سے فرمائیں گے آیت ” کم لبثتم فی الارض عدد سنین “ (یعنی تم زمین میں کتنے سال رہے) تو وہ کہیں گے آیت ” لبثنا یوما او بعض یوم “ (یعنی ہم ایک دن یا ایک دن سے کم رہے) پھر فرمایا وہ کتنی اچھی ہے جو تم نے تجارت کی ہے ایک پورے دن میں یا ایک دن سے کم میں میری رحمت میری رضا مندی اور میری جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو۔ پھر فرمائیں گے اے دوزخ والو ! آیت ” کم لبثتم فی الارض عدد سنین “ (یعنی تم زمین میں کتنا رہے) وہ کہیں گے آیت ” لبثنا یوما او بعض یوم “ (یعنی ہم ایک دن یا ایک دن سے کم رہے) تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ بری ہے جو تم نے تجارت کی ایک دن میں یا ایک دن سے کم میں میری جہنم اور میری ناراضگی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہو۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فسئل العادین “ یعنی حساب لگانے والوں سے پوچھ لیجئے “۔۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فسئل العادین سے مراد ہے فرشتے۔
Top