Fi-Zilal-al-Quran - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا ‘ بتائو زمین میں تم کتنے سال رہے
قل کم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدد سنین۔ اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ انہوں نے کتنا عرصہ دنیا میں گزارا سے لیکن مقصد یہ بتانا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی کس قدر مختصر ہے ‘ کس قدر حقیر ہے اور دنیا کے دن کس قدر چھوٹے ہیں۔ انہوں نے دنیا کی اس مختصر زندگی کے لیے آخرت کی دائمی زندگی کو خراب کیا۔ وہ تو آج محسوس کرتے ہیں کہ یہ دنیا کس قدر مختصر ہے۔ کس قدر معتبر ہے لیکن وہ مایوس ہیں اور ان کے سینے تنگ ہیں۔ اب ان کو کیا پڑی ہے کہ حساب کریں۔
Top