Kashf-ur-Rahman - Al-Ahzaab : 3
لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ
لِّيَجْزِيَ : تاکہ جزا دے اللّٰهُ : اللہ الصّٰدِقِيْنَ : سچے لوگ بِصِدْقِهِمْ : ان کی سچائی کی وَيُعَذِّبَ : اور وہ عذاب دے الْمُنٰفِقِيْنَ : منافقوں اِنْ شَآءَ : اگر وہ چاہے اَوْ : یا يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭ : وہ ان کی توبہ قبول کرلے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ كَانَ : ہے غَفُوْرًا : بخشنے والا رَّحِيْمًا : مہربان
یہ واقعہ احزاب اس لئے ہوا تا کہ اللہ تعالیٰ سچے مسلمانوں کو انکے سچ کا صلہ دے اور منافقوں کو اگر چاہ تو عذاب کردے یاچا ہے تو ان کو توبہ کی توفیق دے ، بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے
24۔ یہ واقعہ اس لئے ہوتا کہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ عنایت فرمایئے اور منافقوں کو اگر چاہے تو عذاب کرے یاچا ہے تو ان کو توبہ کی توفیق عنایت فرمائے اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے یعنی کامل مومنوں نے اپنی بات پوری کر دکھائی ۔ جیسے انس بن نضر ؓ اور انکے رفقاء اور جن لوگوں نے عہد نہیں کیا تھا وہ بھی ثابت قدم رہے یہ مطلب نہیں کہ عہد والوں نے تو سچائی دکھائی اور عہد نہ کرنے والوں نے ثابت قدمی نہیں دکھائی اور معاذ اللہ منافوں کی طرح عہد شکنی کے مرتکب ہوئے ، پھر فرمایا ان عہد کرنیوالوں کی دو قسمیں ہیں کچھ تو اپنی منت اور اپنا ذمہ پورا کرچکے ہیں یعنی انہوں نے جنگ بدر اور جنگ احد میں جام شہادت نوش فرمائے اور شہید ہوگئے۔ جیسے حضرت حمزہ اور مصعب اور انس بن نضر ؓ اور انکے رفقاء اور بعض وہ ہیں جو شہادت کی موت کے منتظر ہیں اور اپنی نیت اور اپنے ارادے اور اپنے عہد میں ذرا سی بھی تبدیلی نہ کی اور یہ واقعہ اس لئے ہوا کہ کامل مومنین منافقوں سے ممتیز ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سچوں کو ان کا سچ کا صلہ عطا فرمائے اور منافقوں کو مہلت دے اور ان کا انجام کے موافق ان کو جزا دے اگر کفر و نفاق پر خاتمہ ہو تو ویسی سزادے اور اگر چاہے تو ان پر توجہ فرمائے اور توجہ کی توفیق دے کر ان کا انجام بخیر کر دے۔ بہر حال ! وہ غفور ہے رحیم ہے اور اس سے بہترہی امید کی جاسکتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ذمہ پورا کرچکا یعنی جہاد ہی میں جان دے چکا جیسے شہداء بدر اور احد اور راہ دیکھتا یعنی اور اصحاب جو جہاد پر مستعد ہیں موت کی راہ دیکھتے ہیں لیکن رسول ﷺ نے فرمایا کہ طلحہ ؓ ان میں ہے جو شہید ہوچکے ۔ 12 یہ طلحہ کی خصویت ہے چونکہ اپنے ہاتھ کو انہوں نے ڈھال بنایا تھا پیغمبر کیلئے ان کا ہاتھ مثل ہوگیا تھا اس لئے ان کو یہ فضلیت حاصل ہوئی۔
Top