Ahkam-ul-Quran - Al-Ankaboot : 40
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
سو بہت اوپر ہے اللہ وہ بادشاہ سچا کوئی حاکم نہیں اس کے سوائے مالک اس عزت کے تخت کا
خلاصہ تفسیر
(اور یہ سب مضامین جب معلوم ہوچکے) سو (اس سے یہ کامل طور پر ثابت ہوگیا کہ) اللہ تعالیٰ بہت ہی عالیشان ہے جو کہ بادشاہ (ہے اور بادشاہ بھی) حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں (اور وہ) عرش عظیم کا مالک ہے اور جو شخص (اس امر پر دلائل قائم ہونے کے بعد) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی بھی عبادت کرے کہ جس (کے معبود ہونے) پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں سو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں ہوگا (جس کا نتیجہ لازمی یہ ہے کہ) یقینا کافروں کو فلاح نہ ہوگی (بلکہ ابد الآباد معذب رہیں گے) اور (جب حق تعالیٰ کی یہ شان ہے تو آپ (اور دوسرے لوگ بدرجہ اولیٰ) یوں کہا کریں کہ اے میرے رب (میری خطائیں) معاف کر اور (ہر حالت میں مجھ پر) رحم کر (معاش میں بھی، توفیق طاعات میں بھی، نجات آخرت میں بھی، عطائے جنت میں بھی) اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

معارف و مسائل
یہ سورة مومنون کی آخری آیتیں اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّاَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ سے آخر سورت تک خاص فضیلت رکھتی ہیں۔ بغوی اور ثعلبی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے کہ ان کا گزر ایک ایسے بیمار پر ہوا جو سخت امراض میں مبتلا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کے کان میں سورة مومنون کی یہ آیتیں اَفَحَسِبْتُمْ سے آخر تک پڑھ دی وہ اسی وقت اچھا ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے اس کے کان میں کیا پڑھا ؟ عبداللہ بن مسعود نے عرض کیا کہ یہ آیتیں پڑھی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی آدمی جو یقین رکھنے والا ہو یہ آیتیں پہاڑ پر پڑھ دے تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے۔ (قرطبی و مظھری)
Top