Tafseer-e-Madani - Al-Anbiyaa : 64
فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ
فَرَجَعُوْٓا : پس وہ لوٹے (سوچ میں پڑھ گئے) اِلٰٓى : طرف۔ میں اَنْفُسِهِمْ : اپنے دل فَقَالُوْٓا : پھر انہوں نے کہا اِنَّكُمْ : بیشک تم اَنْتُمُ : تم ہی الظّٰلِمُوْنَ : ظالم (جمع)
اس پر وہ پلٹے اپنے ضمیروں کی طرف اور اپنے دلوں میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ خود ہی ظالم ہو4
81 حضرت ابراہیم کی ضرب حق کا مشرکوں پر اثر : کہ اس سے انہوں نے اپنے دلوں میں خود اپنے آپ سے یا ایک دوسرے سے کہا کہ یقینا تم لوگ خود ہی ظالم ہو۔ یعنی { انفسہم } کے یہ دونوں مطلب بن سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگ اپنے دلوں میں اس طرح سوچنے لگے۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ انہوں نے باہم ایک دوسرے سے اس طرح کہا۔ سو اس طرح حضرت ابراہیم کی ضرب حق کا ان لوگوں پر وقتی طور پر اثر ہوا لیکن پھر بھی وہ اوندھے ہوگئے اور حق کی طرف لوٹنے کی بجائے کفر و شرک کے اسی مہیب اور تباہ کن گڑھے میں گرگئے ۔ والعیاذ باللہ - 82 مشرکوں کا اپنے ظلم کا اقرار و اعتراف : سو انہوں نے خود اپنے آپ کو یا ایک دوسرے کو خطاب کر کے کہا کہ یقینا تم لوگ خود ہی ظالم ہو جو ایسی بےجان مورتیوں کی پوجا کرتے ہو اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ مورتیاں جو خود اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتیں وہ دوسروں کے کیا کام آئیں گی ؟ اور جب یہ کسی نفع و نقصان کا بھی کوئی اختیار نہیں رکھتیں تو پھر ان کو معبود قرار دینے کی کیا تک ہوسکتی ہے بلکہ یہ تو حقیقت میں انسانیت کی انتہائی تحقیر و تذلیل ہے۔ سو حضرت ابراہیم کی طرف سے لگنے والی اس ٹھوکر سے وہ اپنے عقل و دل کی راہنمائی کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم لوگ تو اس نوجوان کو ظالم کہتے ہو لیکن اس نے ثابت کردیا کہ ظالم وہ نہیں تم لوگ ہو جو ایسی بےحقیقت چیزوں کو پوجتے پکارتے اور ان کو اپنا معبود اور حاجت روا و مشکل کشا قرار دیتے ہو جو اتنی صلاحیت بھی نہیں رکھتے کہ خود اپنا بچاؤ کرسکیں یا اس کو کسی دوسرے کے آگے بیان ہی کرسکیں۔ تو پھر یہ مورتیاں تمہاری حاجت روا و مشکل کشا آخر کس طرح ہوسکتی ہیں ؟۔
Top