Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
پھر اللہ ان سے پوچھے گا کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ تم لوگ زمین میں کتنے برس رہے ؟
125 منکرین سے ان کی تذلیل کے لیے ایک اور سوال : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ جو لوگ دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود کو بہت بڑی چیز اور لمبی فرصت سمجھتے تھے اس روز وہ ان سے پوچھے گا کہ تم لوگ کتنے برس رہے ہو زمین میں ؟۔ کیونکہ تم دنیا کی اس زندگی کو بہت بڑی چیز سمجھتے تھے اور تمہارا خیال تھا کہ ہم اسی میں ہمیشہ رہیں گے اور اسی طرح مزے لوٹتے اور عیش کرتے رہیں گے۔ اور جو لوگ تمہیں دنیا کی بےحقیقتی اور بےثباتی اور اس کے فنا وزوال کے بارے میں بتاتے تھے تم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ اتنی دیر کے بعد آنے والی چیز کی بنا پر ہم اپنا عیش مکدر کیوں کریں۔ سو اب بتاؤ کہ تم دنیا میں کتنے برس رہے اور قبر و برزخ میں کتنا عرصہ تم نے گزارا ؟۔ سو یہ سوال ان لوگوں سے ان کی توبیخ اور تقریع و تذلیل کیلئے ہوگا۔ (المعارف، المراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ فکر و عمل کی ہر کجی اور اس کے انجام سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Top