Tafseer-e-Majidi - Ibrahim : 52
وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
وَقَالَ : اور بولا الشَّيْطٰنُ : شیطان لَمَّا : جب قُضِيَ : فیصلہ ہوگیا الْاَمْرُ : امر اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ وَعَدَكُمْ : وعدہ کیا تم سے وَعْدَ الْحَقِّ : سچا وعدہ وَ : اور وَعَدْتُّكُمْ : میں نے وعدہ کیا تم سے فَاَخْلَفْتُكُمْ : پھر میں نے اس کے خلاف کیا تم سے وَمَا : اور نہ كَانَ : تھا لِيَ : میرا عَلَيْكُمْ : تم پر مِّنْ سُلْطٰنٍ : کوئی زور اِلَّآ : مگر اَنْ : یہ کہ دَعَوْتُكُمْ : میں نے بلایا تمہیں فَاسْتَجَبْتُمْ : پس تم نے کہا مان لیا لِيْ : میرا فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ : لہٰذا نہ لگاؤ الزام مجھ پر تم وَلُوْمُوْٓا : اور تم الزام لگاؤ اَنْفُسَكُمْ : اپنے اوپر مَآ اَنَا : نہیں میں بِمُصْرِخِكُمْ : فریاد رسی کرسکتا تمہاری وَمَآ : اور نہ اَنْتُمْ : تم بِمُصْرِخِيَّ : فریادرسی کرسکتے ہو میری اِنِّىْ كَفَرْتُ : بیشک میں انکار کرتا ہوں بِمَآ : اس سے جو اَشْرَكْتُمُوْنِ : تم نے شریک بنایا مجھے مِنْ قَبْلُ : اس سے قبل اِنَّ : بیشک الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع) لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : دردناک عذاب
یہ (قرآن) لوگوں کے لئے ایک پیام ہے اور تاکہ اس کے ذریعہ سے ڈرائے جائیں اور تاکہ یقین کرلیں کہ وہی ایک خدا ہے اور تاکہ اہل فہم نصیحت حاصل کریں،83۔
83۔ (آیت) ” اولوا الالباب “۔ پر حاشیہ صفحہ 546 نمبر 42 میں گزر چکا۔ (آیت) ” ھذابلغ للناس “۔ یہ قرآن لوگوں کے لیے ایک پیام ہے کہ وہ پیام اور پیامبر دونوں کی تصدیق کریں۔ (آیت) ” بلغ “۔ میں تنوین تعظیم کی ہے۔ یعنی یہ پیام معظم لوگوں کی ہدایت کے لیے بالکل کافی ہے۔ (آیت) ” ولینذروا بہ “۔ یعنی تاکہ اس کے ؔ ذریعہ اور واسطہ سے وہ عذاب الہی سے ڈرائے جائیں۔ (آیت) ” للناس “۔ میں ناس کا عموم لائق لحاظ ہے یعنی یہ پیام ہدایت ساری نوع انسانی کے لیے، کسی مخصوص قوم یا ملک کے لیے نہیں۔ (آیت) ” ولیذکر اولوالالباب “۔ آیت سے ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ انسان کو درجہ شرف وفضیلت جو کچھ بھی حاصل ہے وہ عقل اور اس کے صحیح استعمال ہی سے ہے۔ ھذہ الایۃ دالۃ علی انہ لافضیلۃ للانسان ولا منقبۃ الابسبب عقلہ لانہ تعالیٰ بین انہ انما انزل ھذہ الکتاب وانما بعث الرسول لتذکیر اولی الالباب (کبیر)
Top