Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 100
لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ
لَعَلِّيْٓ : شاید میں اَعْمَلُ : کام کرلوں صَالِحًا : کوئی اچھا کام فِيْمَا : اس میں تَرَكْتُ : میں چھوڑ آیا ہوں كَلَّا : ہرگز نہیں اِنَّهَا : یہ تو كَلِمَةٌ : ایک بات هُوَ : وہ قَآئِلُهَا : کہہ رہا ہے وَ : اور مِنْ وَّرَآئِهِمْ : ان کے آگے بَرْزَخٌ : ایک برزخ اِلٰى يَوْمِ : اس دن تک يُبْعَثُوْنَ : وہ اٹھائے جائیں گے
تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔ ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (اور اس کے ساتھ عمل نہیں ہوگا) اور اس کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے، (رہیں گے)
لعلی اعمل صالحا فیما ترکت تا کہ جس (دنیا) کو میں چھوڑ کر آیا ہوں اس میں پھر جا کر نیک کام کروں۔ حتیٰ ابتدائیہ ہے اس کا تعلق یصفون سے ہے یا کاذبون سے یعنی جب اس کو دونوں ٹھکانے دکھائی دینے لگتے ہیں کہ اگر ایمان لاتا تو جنت کا یہ ٹھکانہ اس کو ملتا اور ایمان نہیں لایا تو دوزخ کے اندر اس کا یہ ٹھکانہ ہے اور اس سے کہہ دیا جاتا ہے کہ جنت کے ٹھکانے کی جگہ اللہ نے دوزخ کے اندر یہ ٹھکانہ مقرر کردیا تو اس وقت وہ کہتا ہے اے میرے رب مجھے دنیا میں واپس کر دیجئے۔ ارْجِعُون میں خطاب رب کو ہی ہے لیکن تعظیماً جمع کا صیغہ استعمال کیا۔ بعض نے کہا تکرار فعل مقصود ہے اس لئے جمع کا صیغہ ذکر کیا گویا اصل کلام یوں تھا اِرْجِعْنِیْ اِرْجِعْنِیْبعض کا قول ہے کہ رب اور روح قبض کرنے والے ملائکہ سب کو خطاب ہے اوّل رب کو مخاطب بنایا کیونکہ فریاد اصل میں اسی سے کی پھر ملائکہ سے درخواست کی کہ وہ دنیا میں پھر لوٹا دیں۔ فِیْمَا تَرَکْتُ ما سے مراد ایمان ہے یعنی وہ ایمان جس کو میں نے ترک کردیا تھا اس میں داخل ہو کر میں نیک کام کروں یا مال یا دنیا مراد ہے یعنی جو مال دنیا میں چھوڑ آیا ہوں پھر اس میں جا کر نیک کام کروں۔ ابن جریج کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مؤمن کو (موت کے فرشتے) نظر آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کیا ہم تجھے دنیا کی طرف لوٹا دیں۔ مؤمن کہتا ہے کیا افکار و آلام کے گھر کی طرف (تم مجھے لوٹانا چاہتے ہو میں ایسا نہیں چاہتا) بلکہ میں تو اللہ کے پاس جانا چاہتا ہوں اور کافر (کے سامنے جب ملائکہ آتے ہیں تو وہ) کہتا ہے رَبِّ ارْجِعُوْنِ ۔ صحیحین میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا برا سمجھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے سے نفرت کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے یا کسی اور بی بی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں (کون مرنا چاہتا ہے) فرمایا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ بات یوں ہے کہ مؤمن کے سامنے جب موت آتی ہے تو اس کو اللہ کی خوشنودی اور عزت بخشی کی بشارت دی جاتی ہے اس وقت (پیچھے رہنے والی) کوئی چیز بھی آگے آنے والی چیز سے زیادہ محبوب نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ لیکن جب کافر کے مرنے کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کے عذاب اور سزا کی اطلاع دی جاتی ہے اس وقت پیش آنے والی چیز سے زیادہ بری کوئی چیز اس کو نظر میں نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ سے ملنے کو ناگوار سمجھتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے سے نفرت کرتا ہے۔ کلا ہرگز نہیں۔ دنیا کی طرف واپس ہرگز نہیں ہوسکتی۔ انہا کلمۃ ہو قآئلہا اس کی یہ ایک بات ہی بات ہے جس کو وہ کہے جا رہا ہے۔ کلمۃ سے مراد ہے پورے کلام کا ایک ٹکڑا یعنی مفید جملہ۔ نحو کی اصطلاح میں کلمہ مفرد لفظ کو کہتے ہیں ( لیکن عربی محاورہ میں مفید کلام کو کلمہ کہا جاتا ہے) ہُوَ قَآءِلُہَا یعنی حسرت اس پر چھا جاتی ہے عذاب کا ڈر ہوتا ہے اس لئے ایسی بات کہتا ہے ورنہ دنیا میں واپس جانا ناممکن ہوتا ہے واپسی کی درخواست بیکار ہوتی ہے۔ ومن ورآۂم بزرخ الی یوم یبعثون۔ اور ان لوگوں سے آگے ایک چیز آڑ ہے اس دن تک جبکہ ان کو اٹھایا جائے گا۔ مِنْ وَّرَآءِہِمْان کے آگے۔ بَرْزَخٌمجاہد نے کہا ان لوگوں کے اور واپسی کے درمیان حجاب ہے (آڑ ہے) قتادہ نے کہا برزخ سے مراد ہے دنیا کی باقی عمر۔ کیونکہ جب تک دنیا کی باقی مدت ختم نہ ہوجائے گی زندگی کی طرف واپسی نہ ہوگی۔ ضحاک نے کہا برزخ موت سے قیامت تک کی مدت۔ بعض نے کہا برزخ سے مراد قبر ہے۔
Top