Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 2
وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ
وَاِنَّ : اور بیشک مِنْ : سے اَھْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب لَمَنْ : بعض وہ جو يُّؤْمِنُ : ایمان لاتے ہیں بِاللّٰهِ : اللہ پر وَمَآ : اور جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف وَمَآ : اور جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْھِمْ : ان کی طرف خٰشِعِيْنَ : عاجزی کرتے ہیں لِلّٰهِ : اللہ کے آگے لَا يَشْتَرُوْنَ : مول نہیں لیتے بِاٰيٰتِ : آیتوں کا اللّٰهِ : اللہ ثَمَنًا : مول قَلِيْلًا : تھوڑا اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ لَھُمْ : ان کے لیے اَجْرُھُمْ : ان کا اجر عِنْدَ : اپ اس رَبِّھِمْ : ان کا رب اِنَّ : ابیشک اللّٰهَ : اللہ سَرِيْعُ : جلد الْحِسَابِ : حساب
اور بعض اہلِ کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے
و ان من اھل الکتاب نسائی نے حضرت انس اور ابن جریر نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ جب نجاشی کی وفات کی خبر آئی تو رسول اللہ نے فرمایا : اس کی نماز پڑھو کسی نے کہا یا رسول اللہ ہم ایک حبشی غلام کی نماز پڑھیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا : یہ آیت نجاشی کے متعلق نازل ہوئی۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک) بغوی نے لکھا ہے کہ جس روز نجاشی کی وفات ہوئی اسی روز حضرت جبرائیل نے رسول ﷺ اللہ کو وفات کی اطلاع دیدی آپ ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا : (شہر سے) باہر نکل کر اپنے بھائی نجاشی کی نماز پڑھو اس کا انتقال دوسرے ملک میں ہوگیا ہے چناچہ بقیع کو تشریف لے گئے آپ کے سامنے سے سر زمین حبش تک پردہ ہٹا دیا گیا اور نجاشی کا جنازہ آپ ﷺ نے خود (آنکھوں سے) دیکھ کر نماز جنازہ پڑھی (جس میں) چار تکبیریں کہیں اور دعا مغفرت کی۔ منافق کہنے لگے ان کو تو دیکھو ایک حبشی عیسائی کافر کی نماز پڑھ رہے ہیں جو ان کے دین پر نہیں تھا۔ نہ اس کو کبھی انہوں نے دیکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ عطاء نے کہا یہ آیت چالیس نجرانیوں کے متعلق نازل ہوئی جن میں 32 حبش کے رہنے والے تھے اور آٹھ رومی تھے یہ سب پہلے حضرت عیسیٰ کے مذہب پر تھے پھر رسول اللہ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ ابن جریر نے ابن جریح کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں ہوا مجاہد نے کہا ان تمام اہل کتاب کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا جو ایمان لے آئے تھے۔ لمن یومن باللہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ یقیناً اللہ پر یعنی اللہ کی ذات وصفات اور اسماء پر صحیح ایمان رکھتے ہیں۔ و ما انزل الیکم اور اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں جو تمہاری طرف اتارا گیا۔ و ما انزل الیھم اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو ان کی طرف بھیجا گیا یعنی توریت، انجیل اور زبور۔ خاشعین اللہ اللہ کے سامنے عاجزی اور خضوع کرتے ہوئے خٰشعین مَنْ سے حال چونکہ مَنْ معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لیے خشعینب صیغۂ جمع لا یا گیا۔ لا یشترون بایت اللہ ثمنا قلیلا اللہ کی آیات (یعنی توریت کی وہ آیات جن کے اندر رسول اللہ کے اوصاف کا بیان ہے ان کو چھپا کر اس) کے عوض حقیر معاوضہ نہیں لیتے (یعنی رشوتیں لے کر ان کو نہیں چھپاتے) جیسے اللہ کے کلام کو بگاڑنے والے علماء کرتے ہیں۔ اولءِک لھم اجرھم عند ربھم یہی لوگ ہیں جن کا خصوصی اجر ان کے رب کے پاس ہے یعنی ان کے لیے مخصوص اجر ہے جو دوسروں سے زائد ہے جیسا کہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے اُوْلٓءِکَ یُوْتُوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنَ حضرت ابوموسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تین (شخص) ہیں جن کا اجر دوہرا ہے (تینوں میں سے) ایک وہ کتابی شخص ہے جو (پہلے) اپنے پیغمبر پر ایمان لایا (پھر) محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ (الحدیث صحیح مسلم و صحیح بخاری) ان اللہ سریع الحساب یہ حقیقت ہے کہ اللہ جلد حساب کرلینے والا ہے کیونکہ وہ اعمال اور اعمال کے لائق جزاء سزا سے واقف ہے اور سوچنے کی اس کو ضرورت نہیں۔ روایت میں آیا ہے کہ اللہ تمام مخلوق کا حساب آدھے دن کی بقدر مدت میں طے کردے گا اور آدھادن بھی دنیا کے ایک دن کے آدھے کے برابر۔ آیت کا مقصود یہ ہے کہ جس اجر کا وعدہ کیا گیا ہے وہ بہت جلد ملنے والا ہے۔ سرعت حساب سے مجازاً مراد ہے جلد بدلہ دینا۔
Top