Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 3
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
كَذٰلِكَ : اسی طرح يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ : وحی کرتا رہا ہے آپ کی طرف وَاِلَى : اور طرف الَّذِيْنَ : ان لوگوں کے مِنْ قَبْلِكَ : آپ سے قبل اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا
اسی طرح وحی بھیجتا ہے اللہ آپ کی طرف (اے پیغمبر ! ) اور ان سب (حضرات) کی طرف جو کہ گزر چکے ہیں آپ سے پہلے جو کہ بڑا ہی زبردست نہایت حکمت والا ہے3
1 حضرات انبیائے کرام کی ایک امتیازی صفت کا ذکر وبیان : سو اس سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات انبیاء و رسل کی تعلیم بھی ایک ہی رہی اور ذریعہ تعلیم بھی ایک ہی رہا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی طرح اللہ وحی بھیجتا ہے آپ کی طرف "۔ یعنی جس طرح اس سورة کریمہ کے مضامین کی وحی فرمائی جا رہی ہے اسی طرح آپ کی طرف اور ان تمام انبیائے کرام کی طرف بھی اللہ پاک کی طرف سے وحی فرمائی جاتی رہی جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں کہ ان سب کے مشمولات بھی ایک ہی قسم کے تھے اور مقاصد بھی مشترک۔ کیونکہ توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان اور اخلاق فاضلہ کی تعلیم وغیرہ بنیادی عقائد و مسائل ان سب میں مشترک تھے۔ اور مقصد بھی ایک ہی تھا کہ انسانیت وحی کے بتائے ہوئے راستے کو اپنا کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار و فیضیاب ہو سکے۔ سو تمام انبیائے کرام کی تعلیم بھی ایک ہی رہی۔ یعنی دین اسلام کی تعلیم جو کہ دین فطرت ہے۔ اور جو اس پوری کائنات کا دین ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا } ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس فطرت کو اپناؤ۔ اور ان سب حضرات کا طریقہ تعلیم بھی ایک ہی رہا۔ یعنی یہ کہ وحی خداوندی کے ذریعے اور اسی کی روشنی میں لوگوں کو حق و ہدایت کی دعوت دی جائے اور لوگوں کو انکے خالق ومالک کے آگے جھکایا جائے اور اس سے ملایا جائے۔ اور وحدت مدعا کا ذکر اور اشارہ آگے آیت نمبر 13 میں فرمایا گیا ہے۔ سو یہ چیز حضرات انبیاء ورسل کے درمیان ایک مشترکہ امتیازی وصف کے طور پر موجود رہی۔ 2 اللہ پاک کی عظمت شان سے متعلق دو صفتوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " جو کہ بڑا ہی زبردست اور نہایت ہی حکمت والا ہے "۔ پس چونکہ وہ ذات اقدس و اعلیٰ نہایت زبردست اور سب پر غالب ہے اس لئے جو کرنا چاہے کوئی اس کے لئے رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ مگر وہ چونکہ انتہا درجہ کی حکیم بھی ہے اس لئے جو کچھ بھی وہ کرتا ہے انتہائی حکیمانہ طریقے پر کرتا ہے ۔ جَلَّ شَانُہٗ وَعَزَّ بُرْہَانُہٗ ۔ سو اسماء ِحسنی میں سے " عزیز " و " حکیم " کی دو صفتوں کے حوالے سے ایک طرف تو تحضیض و ترغیب اور تسلیہ و تسکین کا پہلو نکلتا ہے کہ جو لوگ اس دین حنیف کی تعلیم و تذکیر میں لگ جائیں گے وہ عزت اور حکمت کی دولت سے سرشار ومالا مال ہوں گے۔ اور وہ خدائے عزیز و حکیم کی نصرت و امداد سے بھی سرشار ہوں گے۔ اور دوسری طرف ان دونوں صفتوں کے ذکر میں منکرین و مکذبین کیلئے تہدید و تخویف کا پہلو بھی موجود ہے کہ ایسے لوگ عزت و حکمت سے بھی محروم ہوں گے اور خداوند قدوس کی گرفت و پکڑ کے مورد بھی بنیں گے۔ اور جب وہ پکڑنے پر آئے گا ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ تو ان کیلئے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی کہ وہ عزیز اور نہایت ہی زبردست ہے۔ لیکن وہ چونکہ حکیم بھی ہے اس لیے اس کی پکڑ۔ والعیاذ باللہ ۔ حکمت پر ہی مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر کفر و انکار اور جرم و قصور کے باوجود اگر کسی کو ڈھیل ملتی ہے تو اس سے اس کو مست نہیں ہونا چاہیئے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Top