Tafseer-e-Madani - At-Tawba : 77
وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ
وَمَا : اور نہیں كَانَ : تھا۔ ہے لِنَبِيٍّ : نبی کے لیے اَنْ يَّغُلَّ : کہ چھپائے وَمَنْ : اور جو يَّغْلُلْ : چھپائے گا يَاْتِ : لائے گا بِمَا غَلَّ : جو اس نے چھپایا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ثُمَّ : پھر تُوَفّٰي : پورا پائے گا كُلُّ نَفْسٍ : ہر شخص مَّا : جو كَسَبَتْ : اس نے کمایا وَھُمْ : اور وہ لَا يُظْلَمُوْنَ : ظلم نہ کیے جائیں گے
سو (اللہ نے) ان کی سزا میں ان کے قلوب میں نفاق قائم کردیا جو اس کے پاس جانے کے دن تک رہے گا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ سے اور اس کے خلاف کیا جو کچھ اس سے وعدہ کرچکے تھے اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے،143 ۔
143 ۔ (شروع ہی سے) ” یعنی نیت ایفاء کی اس وقت بھی نہ تھی، پس نفاق تو اس وقت بھی دل میں تھا جس کی فرع یہ کذب واخلاف ہے۔ پھر اس کذب واخلاف کے وقوع سے اور زیادہ مستحق غضب ہوئے اور اس زیادت غضب کا اثر یہ ہوا کہ وہ نفاق سابق اب دائم وغیرزائل ہوگیا کہ توبہ بھی نصیب نہ ہوگی، اسی حالت پر مر کر ابد الآباد جہنم میں رہنا نصیب ہوگا “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” فاعقبھم “۔ الخ یعنی چونکہ انہوں نے اپنے ارادہ سے گمراہی اختیار کرلی، اللہ بھی ان کے ارادہ کے خلاف ان کی گمراہی کو ہدایت سے نہ بدلے گا، اور انہوں بدستور اسی حال میں پڑا رہنے دے گا۔ قال الزجاج ان معناہ انھم لما ضلوا فی الماضی فھو تعالیٰ اضلھم عن الدین فی المستقبل (کبیر) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جس طرح طاعتوں سے ایمان کی نورانیت بڑھتی ہے اسی طرح سے معصیتوں سے کفر کی ظلمت بھی بڑھتی ہے۔
Top