Bayan-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 93
كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ
كَمَثَلِ : حال جیسا الَّذِيْنَ : جو لوگ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل قَرِيْبًا : قریبی زمانہ ذَاقُوْا : انہوں نے چکھ لیا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ : اپنے کام کا وبال وَلَهُمْ : اور ان کے لئے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب دردناک
ان کا حال ان لوگوں کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ چکے ہیں۔ اور (ابھی) ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے
کمثل الذین من قبلھم قریبا ذاقوا وبال امرھم ولھم عذاب الیم . ” (ان کی) ان لوگوں کی سی مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں کہ وہ (دنیا میں بھی) اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے اور (آخرت میں بھی) ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ “ کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَرِیْبًا : یعنی بنی نضیر کی مثال ویسی ہی ہے جیسی ان سے کچھ ہی پہلے والے لوگوں کی تھی۔ مجاہد کا قول ہے کہ : اَلَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَرِیْبًاسے مراد وہ مشرکین ہیں جو بدر میں مسلمانوں سے لڑے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بنی قینقاع کے یہودی مراد ہیں۔ بنی قینقاع حضرت عبداللہ ؓ بن سلام کے قبیلہ والے تھے۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی سلول یا عبادہ ابن صامت وغیرہ سے معاہدہ کر رکھا تھا ‘ یہ لوگ سناری کا کام کرتے تھے اور قوم یہود میں سب سے سے زیادہ بہادر تھے۔ ذَاتُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ : یعنی کفر اور عداوت رسول کی بد انجامی کا دنیا میں بھی انہوں نے مزہ چکھ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ کی سکونت چھوڑ کر مدینہ میں رونق افروز ہوئے تو تمام یہودیوں نے آپ ﷺ سے ایک معاہدہ کرلیا اور عہد نامہ لکھ دیا گیا اور جو لوگ یہودیوں کے ‘ یا رسول اللہ ﷺ کے معاہد اور حلیف تھے ان کو بھی معاہدہ نامہ کے اندر اسی فریق سے ملحق کردیا گیا جس کے وہ حلیف بنے۔ اس معاہدہ میں متعدد دفعات تھیں ‘ ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ اگر کسی فریق کا کوئی دشمن ہو تو اس فریق کے خلاف اس کے دشمن کی مدد فریق ثانی نہیں کرے گا۔ جب بدر کی لڑائی کفار مکہ سے ہوئی تو بنی قینقاع نے سب سے پہلے عہد شکنی اور معاہدہ کی خلاف ورزی کی۔ علی الاعلان باغی ہوگئے اور اندرونی عداوت کے مظاہرہ پر اتر آئے ‘ انہی حالات میں ایک مسلمان بدوی (عرب) عورت قینقاع کے بازار میں آئی اور ایک سنار کے پاس کسی زیور (کے خریدنے) کے لیے بیٹھی ‘ لوگوں نے اس کا چہرہ بےنقاب کرنا چاہا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ سنار نے پیچھے سے اس کے کپڑے کا ایک کونا کسی کانٹے میں الجھا دیا ‘ عورت کو پتہ بھی نہ ہوا۔ جب وہ اٹھی تو اس کا ستر کھل گیا ‘ لوگ ہنسنے لگے۔ وہ چیخ پڑی۔ یہ دیکھ کر ایک مسلمان نے سنار پر حملہ کردیا اور اس کو قتل کردیا۔ سنار یہودی تھا ‘ یہودیوں نے اس مسلمان کو قتل کردیا اور رسول اللہ ﷺ سے کیا ہوا معاہدہ (پس پشت) پھینک دیا۔ شہید مسلمان کے متعلقین نے مسلمانوں کو پکارا۔ مسلمان غضب ناک ہوگئے۔ اس طرح مسلمانوں میں اور بنی قینقاع کے یہودیوں میں فساد ہوگیا۔ اس پر آیت : . وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَۃً فَانْبِذْ اِلَیْھِمْ عَلٰی سُوَآءٍ نازل ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے بنو قینقاع سے خیانت عہد کا اندیشہ ہے۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ (بنی قینقاع کی طرف) روانہ ہوگئے۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کو جھنڈا سپرد کیا ‘ مدینہ میں ابو لبابہ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ یہودی قلعہ بند ہوگئے۔ حضور ﷺ نے ان کا سخت ترین محاصرہ پندرہ روز تک جاری رکھا ‘ آخر اللہ نے یہودیوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ حضور ﷺ کے حکم کے مطابق قلعہ سے اتر آئے اور شرط یہ کی کہ ان کا سارا مال تو رسول اللہ ﷺ کا ہوجائے گا لیکن ان کے اہل و عیال انہی کے رہیں گے (ان کو باندی ‘ غلام نہیں بنایا جائے گا) رسول اللہ ﷺ نے ان کی مشکیں باندھنے کا حکم دے دیا اور اس کام کو منذر بن قرامہ سلمی کے سپرد کیا۔ حضرت عبادہ بن صامت چل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرا مقصد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ میں ان کافروں کے معاہدۂ (موالات) سے دستبردار ہوتا ہوں۔ یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی سلول نے حضور ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا اور یہ اس وقت عرض کیا جب اللہ نے اپنے رسول کو یہودیوں پر قابو دے دیا ‘ کہنے لگا محمد ﷺ میرے دوستوں کے معاملہ میں مجھ پر احسان کیجئے (انکو معاف کر دیجئے) حضور ﷺ نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ عبداللہ نے آپ کے پیچھے سے آپ ﷺ کے گریبان میں ہاتھ رکھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ارے مجھے چھوڑ ‘ تیرا برا ہو۔ حضور ﷺ کو اتنا غصہ آیا کہ چہرۂ مبارک پر غضب کے آثار لوگوں نے دیکھے ‘ فرمایا ارے تیرا برا ہو ‘ مجھے چھوڑ۔ کہنے لگا : خدا کی قسم ! میں اس وقت تک آپ ﷺ کو نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ ﷺ مجھ پر احسان کر کے میرے حلیفوں کے معاملہ میں حسن سلوک نہیں کریں گے۔ یہ سات سو ہیں ‘ چار سو غیر مسلح اور تین سو ہتھیار بند۔ آپ کل صبح کو یکدم ان کو کاٹ دیں گے۔ خدا کی قسم ! مجھے (زمانہ کی) گردشوں کا خوف ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ان کو چھوڑ دو ‘ ان پر اللہ کی لعنت اور ان پر بھی لعنت جو ان کے ساتھی ہیں۔ غرض حضور ﷺ نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کردیا اور مدینہ سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ تین روز کے بعد وہ چلے گئے ‘ ان کو نکال دینے پر عبادہ بن صامت مامور ہوئے۔ محمد بن مسلمہ نے کہا کہ مدینہ سے نکل کر ان کو اذرعات بھیج دیا۔ حضور ﷺ نے ان کے اسلحہ میں سے (اپنے لیے) دو زرہیں ‘ تین بھالے اور تین تلواریں لے لیں۔ انکے گھروں میں بہت اسلحہ اور سناری کے اوزار ملے۔ سب کا خمس (پانچواں حصہ) نکال کر باقی چار حصے ساتھیوں کو تقسیم کردیئے گئے۔ بدر کے بعد (مال غنیمت کا) یہ پہلا خمس تھا۔ ہجرت سے بیس ماہ کے خاتمہ پر نصف شوال 2 ھ کو بروز ہفتہ یہ واقعہ ہوا۔ عبداللہ بن ابی سلول اور عبادہ بن صامت کے متعلق آیات : یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرآی اَوْلِیَآءَ...... ھُمُ الْغَالِبُوْنَ تک نازل ہوئیں۔ سورت مائدہ میں ہم اس کی تفصیل ذکر کرچکے ہیں۔ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ : یعنی آخرت میں ان پر عذاب الیم ہوگا۔ دنیوی عذاب آخرت کے عذاب کو کم نہیں کر دے گا۔
Top