Mazhar-ul-Quran - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
) ۔ (ف 1) ان (کفار) سے اللہ نے فرمایا : (اچھا یہ بتلاؤ) برسوں کی گنتی سے تم کس قدر مدت زمین میں رہے
(ف 1) مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان دوزخیوں کو قائل کرنے کے لیے پوچھا جاوے گا کہ دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں تم عقبی کو بھول گئے اور اللہ کے کلام کو تم نے جھٹلایا، آخر تم کو کچھ بھی یاد ہے دنیا میں تم کتنے برس رہے عذاب کی سختی کے سبب یہ لوگ بالکل بدحواس ہوجاویں گے اس لیے بدحواسی کا جواب دیں گے کہ جو فرشتے ہم پر مامور تھے ان سے یہ بات پوچھی جاوے کہ دنیا میں ہم کتنے برس رہے، اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک دن، یا اس سے بھی کچھ کم رہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب تم کو دنیا میں رہنے کی مدت یاد نہیں، لیکن اگر یاد کرکے تم اس مدت کو اس وقت جان بھی لیتے تو اس ہمیشہ کے عذاب کے آگے وہ مدت کچھ شمار کے قابل نہی ٹھہرتی۔
Top