Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Al-Anbiyaa : 87
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ
وَ
: اور
ذَا النُّوْنِ
: ذوالنون (مچھلی والا)
اِذْ
: جب
ذَّهَبَ
: چلا وہ
مُغَاضِبًا
: غصہ میں بھر کر
فَظَنَّ
: پس گمان کیا اس نے
اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
: کہ ہم ہرگز تنگی نہ کریں گے
عَلَيْهِ
: اس پر
فَنَادٰي
: تو اس نے پکارا
فِي الظُّلُمٰتِ
: اندھیروں میں
اَنْ لَّآ
: کہ نہیں
اِلٰهَ
: کوئی معبود
اِلَّآ اَنْتَ
: تیرے سوا
سُبْحٰنَكَ
: تو پاک ہے
اِنِّىْ
: بیشک میں
كُنْتُ
: میں تھا
مِنَ
: سے
الظّٰلِمِيْنَ
: ظالم (جمع)
اور مچھلی والے (نبی کو بھی ہم نے علم و حکمت سے نوازا) جب وہ چلا گیا غصے میں تو اس نے خیال کیا کہ ہم نہیں تنگی ڈالیں گے اس پر۔ پس پکارا اس نے اندھیروں میں کہ نہیں کوئی معبود سوائے تیرے۔ تیری ذات پاک ہے بیشک میں ہی قصورواروں میں سے ہوں
ربط آیات : پہلے حضرت ایوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، پھر حضرت اسماعیل ، ایوب اور ذالکفل (علیہم السلام) کا۔ اللہ نے ان سب کو علم و حکمت سے نوازا تھا۔ ان کی نبوت عطا فرمائی پھر ان پر مصائب بھی آئے ، جنہیں انہوں نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ یہ سب بعد میں آنے والوں کے لئے نمونہ تھے۔ اللہ نے ان کو بطور مثال پیش کیا کہ دیکھو ان لوگوں نے تکلیف کے دوران کس قدر صبر سے کام لیا ، لہٰذا تمہیں بھی ان کا سوہ اختیار کرنا چاہیے۔ جس طرح ان لوگوں نے بوقت ضرورت اللہ کے حضور مناجات پیش کی ، اسی طرح تمہیں بھی کرنا چاہیے۔ تمہارا کام دعا کرنا ہے اور مصائب کو دور کرنا اللہ کا کام ہے۔ وہ قادر مطلق ہے جب چاہے کسی کو تکلیف میں ڈال دے اور جب چاہے تکلیف کو دور کردے۔ اس کے سوا نہ کوئی تکلیف دے سکتا ہے اور نہ اسے ہٹا سکتا ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرکے ان کو باقی لوگوں کے لئے نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا تذکرہ : آج کے درس میں اللہ کے برگزیدہ نبی ذوالنون یعنی مچھلی والے کا ذکر ہے نون مچھلی کو کہا جاتا ہے چونکہ یہ نبی کئی روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہے ، اس لئے اس لقب سے موسوم ہوئے۔ آپ کو صاحب حوت بھی کہا گیا ہے۔ اس کا معنی بھی مچھلی والا ہے کیونکہ عربی زبان میں حوت بھی مچھلی کو کہا جاتا ہے۔ سورة القلم میں حضور ﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ولا تکن کصاحب الحوت (آیت 48) آپ مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیں جنہوں نے اپنی بستی چھوڑنے میں جلدی کی اور وحی الٰہی کا انتظار نہ کیا۔ بہرحال قرآن پاک کے مطابق آپ کا اصل نام حضرت یونس (علیہ السلام) ہے ، اور اس نام سے قرآن پاک میں ایک مستقل سورة بھی ہے جس میں آپ کا مختصر سا تذکرہ آیا ہے آپ انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں اور مسیح (علیہ السلام) سے سات آٹھ سو سال پہلے گزرے ہیں۔ آپ کے زمانے میں فلسطین وشام پر حزقیل نامی بادشاہ برسراقتدار تھا۔ وہ خود ایماندار اور انبیاء (علیہم السلام) کا پیروکار تھا۔ اس زمانے میں اللہ کے پانچ نبی بیک وقت موجود تھے جن میں یونس (علیہ السلام) بھی شامل ہیں۔ اس زمانے میں عراق کے صوبہ موصل کی بستی نینویٰ میں بعض شرپسندوں نے بڑی تعدی کی۔ وہاں پر قتل و غارت کی اور بہت سے لوگوں کو غلام بھی بنالیا۔ اس وقت بڑے نبی حضرت شعیا (علیہ السلام) تھے جن کے مشورے سے اللہ نے پانچ نبیوں میں حضرت یونس (علیہ السلام) کو نینویٰ کی طرف مامور فرمایا تاکہ ان ظالم لوگوں کو سمجھایا جائے کہ وہ ظلم وتعدی سے بازآ جائیں اور مخلوق خدا کو تنگ نہ کریں نیزان کو نضردشرک سے منع کرکے توحید خداوندی کا درس دیں۔ یونس (علیہ السلام) کی لغزش : آپ طویل عرصہ تک لوگوں کو تبلیغ حق کرتے رہے مگر کسی نے آپ کی بات نہ مانی۔ بالآخر یونس (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید سنائی۔ اور خود وحی الٰہی کا انتظار کیے بغیر بستی سے چلے گئے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے بےصبری سے تعبیر کیا ہے۔ اس لغزش پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ابتلا میں ڈال دیا جس کا ذکر اس مقام پر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے واذالنون اذ ذھب مغاضبا اور مچھلی والے پیغمبر جب کہ وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔ ہم نے ان کو علم و حکمت عطا کیا تھا ، ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا تھا مگر وہ قوم سے ناراض ہو کر اپنا مستقرچھوڑ گئے فظن ان لن نقد رعلیہ اور گمان یہ کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں ڈلیں گے۔ قدر القدر کا مصدر قدر بھی ہے اور قدرت بھی ۔ یہاں پر لن تقدر کا معنی ” ہمیں قدرت نہیں “ درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو قادر مطلق ہے اسے ہر چیز پر قدرت حاصل ہے ۔ تو یہاں پر قدر کا معنی ” تنگ کرنا “ ہے یعنی اللہ کے نبی نے گمان کیا کہ ہرگز اسے تنگی میں نہیں ڈالیں گے۔ ویسے قدر کا معنی مقدر کرنا یا تقدیر بھی آتا ہے مگر اس مقام ہے مگر اس مقام پر ” تنگ کرنا “ ہی مراد ہے۔ یہ تنگی یونس (علیہ السلام) پر خطائے اجتہادی سے سے آئی تھی ، نہ کہ گناہ کی وجہ سے ۔ شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر ” بیان القرآن “ میں رقمطراز ہیں کہ انبیاء حقیقی گناہ اور حقیقی سزا دونوں چیزوں سے پاک ہوتے ہیں۔ انبیاء کو جو سزا پہنچتی بھی ہے وہ صرف جسمانی ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ ان کے روح وقلب کو بالکل محفوظ رکھتا ہے۔ ظاہری سزا تو یہی ہے کہ کوئی بیماری لاحق ہوگئی ، کوئی حادثہ پیش آگیا مگر حقیی سزا نبیوں کو نہیں ملتی بعض نبیوں پر اس لئے بھی سختی آتی ہے کہ ان کی تربیت مقصود ہوتی ہے۔ معمولی بات پر بھی ان کی گرفت ہوجاتی ہے کیونکہ وہ مقربین بارگاہ الٰہی ہوتے ہیں نابینا صحابی کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لئے سخت الفاظ استعمال کئے عبس وتولی ان جاء ہ الاعمی (عبس 2- 1) آپ ترش رو ہوگئے اور روگردانی کی کہ ایک نابینا آدمی کے پاس آگیا ہے۔ اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں جب آپ نے اپنے بیٹے کے حق میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے نوح (علیہ السلام) ! تیرا بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ہے کیونکہ اس کے اعمال ناپسندیدہ ہیں نیز فرمایا انی اعظک ان تکون من الجھلین (ھود 4- 1) میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں نہ ہوجانا۔ یہ بھی کوئی گناہ نہیں تھا بلکہ معمولی لغزش تھی۔ اس مقام پر پہنچ کر بہت سے لوگ غلطی کھا جاتے ہیں مولانا مودودی صاحب نے بھی یہی لکھا ہے کہ یونس (علیہ السلام) سے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئیں تھیں (العیاذ باللہ) یہ بالکل غلط تفسیر ہے۔ آپ نے فریضہ رسالت کو بالکل کما حقہ ادا کیا۔ اس میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی کیونکہ آپ نے اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں ” درادائے فرض بہ ہیچ وجہ تقصیر نہ کردہ اند “ یعنی انبیاء (علیہم السلام) ادائیگی فرض میں کسی طرح بھی کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ اللہ کا واضح فرمان موجود ہے کہ اے پیغمبر ! جو چیز آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کی ہے ، اسے ٹھیک ٹھیک امت تک پہنچا دیں وان لم……………رسالتہ (المائدہ 67) اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے حق رسالت ہی ادا نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ رئیس المفسرین کے خطاب سے سرفراز ہیں ان کے حق میں نبی ﷺ (بخاری ص 531 ومسلم ص 298 ج 2 (فیاض) نے دعا کی تھی اللھم علمہ الکتب وفقھہ فی الدین اے اللہ ! انہیں قرآن کا علم عطا فرما اور دین میں سمجھ دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی ، چناچہ حضرت ابن عباس ؓ پوری امت میں کتاب اللہ کے سب سے زیادہ عالم مانے جاتے ہیں بہت سے لوگوں نے آپ سے قرآن پاک کی تفسیر پڑھی ، بلکہ بعض نے تو بار بار پڑھی۔ آپ آخری دور میں طائف منتقل ہوگئے تھے ، وہیں فوت ہوئے اور وہیں آپ کی قبر ہے۔ ایک دفعہ آپ امیر معاویہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ امیر آپ کے علم وفضل اور زہدوتقویٰ سے واقف تھا۔ کہنے لگا ، حضرت ! مجھے ایک اشکال پیدا ہوا ہے رات میں نے قرآن پاک کی تلاوت کی تو قرآن کی موجیں اس زور شور سے اٹھیں کہ میں انے تھپڑے برداشت نہ کرسکا۔ اور سمندر میں ڈوب گیا۔ اب آپ ہی مجھے ان موجوں سے باہر نکال سکتے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے بات کی وضاحت چاہی تو امیر معاویہ ؓ نے عرض کیا کہ جب میں نے یہ آیت کریمہ تلاوش کی ان لن نقدر علیہ تو مجھے سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ کیا کوئی نبی یہ بھی خیال کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر قادر نہ ہو۔ حضرت یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی آپ نے فوراً فرمایا نقدر کا مادہ قدر سے ہے نہ کہ قدرت سے قدر کا معنی اندازہ کرنا بھی ہوتا ہے اور تنگ کرنا بھی ، اور یہاں پر تنگ کرنا مراد ہے یعنی اللہ کے نبی نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہیں ڈالیں گے اس کی مثال دوسری جگہ بھی موجود ہے۔ سورة سبا میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ قل ان ربی یبسط الرزق لمن یشاء من عبادہ ویقدرلہ (آیت 39) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ الغرض ! اس آیت کریمہ کا مطلب یہی ہے ۔ کہ یونس (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں ڈالے گا ، لہٰذا وہ وحی الٰہی کا انتظار کیے بغیر بستی سے چلے گئے۔ یونس (علیہ السلام) کی ابتلائ : اس خطائے اجتہادی پر حضرت یونس (علیہ السلام) کو آزمائش میں مبتلا کردیا گیا۔ آپ بستی سے چل کر دریا کے کنارے پہنچے۔ اس وقت ایک جہاز یافہ سے ترسیں جانے کے لئے کھڑا تھا ، آپ بھی اس میں سوار ہوگئے۔ آگے چل کر جہاز طوفانی لہروں میں پھنس گیا۔ چناچہ اس وقت کے عقیدہ کے مطابق بعض لوگوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا سے بھاگ کر اس جہاز پر سوار ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہ سے پورا جہاز مصیبت میں گرفتار ہوگیا ہے ، ایسے شخص کو فوراً جہاز سے اتار دینا چاہیے ورنہ پورا جہاز غرق ہوجائے گا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) فوراً سمجھ گئے کہ ان پر ابتلاء کا وقت آگیا ہے۔ اور انہوں نے خود اقرار کیا کہ بھاگا ہوا غلام میں ہی ہوں ، لہٰذا مجھے پانی کی لہروں کی نذر کردیا جائے۔ آپ کے نورانی چہرہ کو دیکھ کر لوگوں نے آپ کی بات کا یقین نہ کیا اور قرعہ اندازی کا فیصلہ ہوا کہ جس کے نام پر قرعہ نکلے اسے پانی میں پھینک دیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ سورة الصفت میں موجود ہے فساھم…………حضین (آیت 141) جہاز والوں نے قرعہ اندازی کی تو قرعہ حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام نکلا۔ یہ عمل تین دفعہ دہرایا گیا۔ مگر ہر دفعہ آپ ہی کا نام نکلا ، لہٰذا آپ کو پانی میں پھینک دیا گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ جہاز کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے ایسا کیا گیا تھا ، مگر یہ بات درست نہیں ہے۔ بہرحال جب آپ کو دریا میں پھینکا گیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت کا اتنظام بھی کررکھا تھا۔ ایک مچھلی کو حکم ہوا کہ میرے نبی کو نگل لو۔ تمہارا پیٹ اس کا قید خانہ ہے۔ یہ تمہاری خوراک نہیں ہے۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ آپ تین پہر تک مچھلی کے پیٹ میں پڑے رہے ، بعض نے تین دن کا ذکر کیا ہے اور بعض دس دن اور چالیس دن کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ آپ نے اتنا عرصہ مچھلی کے پیٹ میں گزارا۔ بہرحال جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا آپ اس قید خانہ میں رہے۔ یونس (علیہ السلام) کی دعا : اس اثنا میں فنادی فی الظلمت آپ نے اندھیروں کے اندر پروردگار کو پکارا۔ ظاہر ہے کہ ایک تورات کا اندھیرا تھا ، پھر پانی کا اندھیرا اور پھر مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ ان تاریکیوں میں یونس (علیہ السلام) کی زبان سے یہ دعا نکگی ان لا الہ الا انت سبحنک کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے تیرے۔ تیری ذات پاک ہے انی کنت من الظلمین اور قصور وار میں ہی ہوں۔ میں اپنی لغزش کا اعتراف کرتا ہوں اللہ کی رحمت جوش میں آئی تو اس نے فرمایا فاستجینا لہ پھر ہم نے آپ کی مناجات کو قبول کیا ونجینہ من الغم اور ہم نے آپ کو اس غم یعنی مصیبت سے نجات دی۔ سورة الصفت میں ہے فلولا ………………المسبحین (آیت 143) لبث …………یبعثون (آیت 144) اگر آپ یہ تسبیح بیان نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس قید سے رہائی نہ بخشتا اور قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔ چناچہ مچھلی کو حکم ہوا کہ آپ کو اگل دے فنبذنہ …… ……سقیم (الصفت 145) تو ہم نے آپ کو چٹیل میدان میں پھینک دیا اس حالت میں کہ آپ بیمار تھے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ کی جلد بالکل نرم ہوچکی تھی۔ کہ سردی اور گرمی برداشت کرنے کے قابل نہ تھی پھر جس ریتلی زمین پر آپ کو اگلا گیا وہاں کوئی سایہ بھی نہ تھا۔ تو اللہ نے فرمایا وانبتنا ……………یقطین (الصفت 146) ہم نے وہاں پر کدو کی ایک بل اگا دی جس کے پتے چکنے ہوتے ہیں اور ان پر مکھی بھی نہیں بیٹھتی ۔ اسی لئے حضور ﷺ کدو بڑی رغبت سے تناول فرماتے تھے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، یہ میرے بھائی یونس (علیہ السلام) کا درخت ہے اس لئے مجھے پسند ہے۔ بہرحال اللہ نے آپ کو جب تک وہاں رکھنا منظور تھا اس میدان میں رکھا اور پھر وارسلنہ ………………یزیدون (الصفت 147) آپ کو ایک لاکھ بیس ہزار کی آبادی والے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ پھر آگے سارا واقعہ مذکور ہے۔ مفید عام مناجات : اس آیت کریمہ میں مناجات لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو اس غم سے نجات دی اور ساتھ یہ بھی فرمایا وکذلک ننجی المومنین اور ہم اسی طرح مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں مطلب یہ کہ یہ وظیفہ صرف یونس (علیہ السلام) کے لئے ہی مخصوص نہیں تھا بلکہ جو مومن پریشانی کی حالت میں اس مناجات کے ساتھ دعا کرے گا ، ہم اس کو مصیبت سے رہائی دلائیں گے ، ترمذی شریف (ترمذی ص 504 (فیاض) کی روایت میں آتا ہے دعوۃ المکروب دعوۃ ذوالنون سخت پریشانی میں مبتلا شخص کی دعا بھی وہی ہے جو حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا ہے۔ چناچہ شاہ عبدالعزیز ” (رح) تفسیری عزیزی “ میں لکھتے ہیں کہ بلا شبہ رد بلا کے لئے دعا تویہی ہے لیکن بزرگان دین نے تجربات کرنے کے بعد اس دعا کو پڑھنے کے دو طریقے وضع کیے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ بہت سے آدمی مل کر ایک ہی مجلس میں اس آیت کا سوا لاکھ مرتبہ ورد کریں اور پھر دعا کریں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ منظور فرمائے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مصیبت زدہ آدمی عشاء کے بعداندھیرے میں روزانہ تین سو مرتبہ یہ وظیفہ پڑھے۔ اپنے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھ لے اور وقفہ وقفہ سے پانی میں ہاتھ ڈال کر چہرے اور جسم پر ملتا رہے۔ یہ عمل تین ، سات یا چالیس دن کریگا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی مشکل کو حل کردیگا۔ یہ بڑا پاکیزہ کلمہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عظمت کا اقرار اور اپنی غلطیوں کا اعتراف ہے۔ اس کے پڑھنے سے اللہ تعالیٰ مضطرب کی دعا قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اشارۃ بتلادیا کہ یہ بات صرف یونس (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہم اس طرح ہر اہل ایمان کو اس کے مصائب سے نجات دیا کرتے ہیں۔
Top