Al-Qurtubi - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟
آیت نمبر 112 تا 114 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل کم لبثتم فی الارض۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ قبور میں رہنے کے متعلق سوال ہوگا۔ بعض نے کہا : دنیا میں مدت حیات کے بارے میں سوال ہو گا یہ سوال مشرکین کیلئے قیامت کے عرصات میں یا دوزخ میں ہوگا۔ عدد سنین۔ نون کے فتحہ کے ساتھ کہ یہ جمع سالم ہے اور بعض عرب اسے جر دیتے ہیں اور تنوین دیتے ہیں۔ قالو لمثنا یو ما او یعض یوم عذاب کی شدت انہیں قبور میں ٹھرنے کی مدت بھلا دے گی۔ بعض نے کہا : چونکہ ان سے دونوں نفخوں کے درمیان عذاب اٹھا لیا جائے گا تو وہ قبور میں عذاب کو بھول جائیں گے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جس عذاب میں وہ تھے نفخہ اولی سے نفخہ ثانیہ تک وہ انہیں بھلا دے گا کیونکہ جس کو کسی نبی نے قتل کیا یا کسی نے قتل کیا یا کسی نے نبی کو قتل کیا یا نبی کی موجودگی میں قتل کیا گیا تو اس مرنے کے وقت سے لے کر نفخہ اولی یعنی پہلا صور پھونکنے تک عذاب دیا جائے گا پھر ان سے عذاب دور کیا جائیگا۔ پس وہ پانی کی طرح ہوگا حتی کہ دوسرا صور پھونکا جائے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : انہوں نے دنیا میں ٹھہرنے کی مدت اور قبور میں رہنے کے عرصہ کو کم جانا اور اسے تھوڑا سمجھا اس عذاب کی نسبت جس میں وہ مبتلا تھے۔ فسئل العادین۔ حساب لگانے والوں سے پوچھ جو حساب کو جانتے ہیں ہم تو اسے بھول چکے ہیں یا یہ مراد ہے کہ ان فرشتوں سے پوچھ جو دنیا میں ہمارے ساتھ تھے۔ پہلا قول قتادہ کا ہے اور دوسرا قول مجاہد کا ہے۔ ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے قل کم لبشتم فی الارض پڑھا ہے یعنی امر کا صیغہ پڑھا ہے۔ یہ تعین معافی کا احتمال رکھتا ہے (1) تو کلام ایککو حکم دینے کیلئے ذکر کی گئی جب کہ مراد جماعت ہے : کیونکہ یہی معنی مفہوم ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ فرشتے کو حکمہو کہ ان سے قیامت کے روز دنیا میں ٹھہرنے کی مدت کے بارے میں پوچھو یا یہ مراد ہو کہ بتا اے کافر ! تم کتنا عرصہ ٹھہرے ؟ یہ تیسرا قول ہے۔ باقی قراء نے ماضی کا صیغہ قال پڑھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا یا فرشتوں نے انہیں کہا : تم کتنا عرصہ ٹھہرے ؟ حمزہ اور کسائی نے بھی قل ان لبستم الا قلیلا پڑھا ہے باقی قراء نے قال خبر کی بنا پر پڑھا ہے جیسا کہ ابتدا میں تفسیر میں ذکر کیا گیا یعنی تم نہیں ٹھرے زمین میں مگر تھوڑا عرصہ۔ یہ اس لیے کہ ان کا قبور میں ٹھہرنا اگرچہ لمبا تھا لیکن متناہی تھا۔ بعض نے کہا : آگ میں ٹھہرنے کی نسبت یہ عرصہ کم تھا کیونکہ اس کی حد نہیں ہے۔ لَوْ انکم کنتم تعلمون۔ یعنی کاش ! تم حقیقت کو جانتے۔
Top