Ruh-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 108
تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ
تِلْكَ : یہ اٰيٰتُ اللّٰهِ : اللہ کی آیات نَتْلُوْھَا : ہم پڑھتے ہیں وہ عَلَيْكَ : آپ پر بِالْحَقِّ : ٹھیک ٹھیک وَمَا اللّٰهُ : اور نہیں اللہ يُرِيْدُ : چاہتا ظُلْمًا : کوئی ظلم لِّلْعٰلَمِيْنَ : جہان والوں کے لیے
یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ جہان والوں پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا
تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْـکَ بِالْحَقِّ ط وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّـلْعٰـلَمِیْنَ ۔ وَلِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ۔ ع (یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں اور اللہ جہان والوں پر کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور سارے معاملات اللہ کے حضور میں پیش کیے جاتے ہیں) (108 تا 109) ایک اہم ترین سوال کا جواب یہ اللہ کی آیات ہیں جنھیں ٹھیک ٹھیک ہم آپ پر پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اس کا انجام آخر کیا ہوگا ؟ کیونکہ اس کی زندگی بےسبب تو نہیں اور نہ اس کی زندگی بےمقصد ہوسکتی ہے۔ وہ اس کائنات کا گل سرسبد ہے۔ یقینا کسی مقصد عظیم کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے، لیکن اس مقصد کا سراغ لگانا اور اس کے حوالے سے انسان کی زندگی کے انجام کا تعین کرنا یہ انسانی بس کی بات نہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جس میں انسان ہمیشہ الجھتا رہا ہے۔ کبھی وہ زندگی کے مقاصد کے تعین میں ٹھوکر کھاتا ہے اور کبھی اپنے انجام کے بارے میں اندازوں سے کام لیتا ہے اور یہی وہ خرابی کی بنیاد ہے جس نے ہمیشہ انسان کی منزل کھوٹی کی ہے حالانکہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ اگر یہ بات مان لی جائے کہ انسان ایک مخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کا خالق ہے تو پھر خالق سے بڑھ کر مخلوق کی زندگی کے بارے میں رہنمائی اور کون دے سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ آخری نبی ہیں اس لیے اگر ان باتوں کا جواب آنحضرت ﷺ کے واسطے سے انسانوں کو نہ ملا تو پھر تو دنیا میں کوئی اور واسطہ ایسا نہیں آئے گا جس سے انسانیت کا بھلا ہو سکے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں صاف صاف فرمایا گیا کہ قومیں کس طرح زندہ ہوتی ہیں اور کس طرح مرتی ہیں۔ اللہ کی نگاہ میں ان کی نجات کے اسباب کیا ہیں ؟ اور ان کی ہلاکت کے کیا ہیں ؟ اور اس بارے میں قدرت نے کیا اصول مقرر کر رکھے ہیں ؟ یہ وہ اللہ کی آیات ہیں جس میں اہل کتاب نے بھی ٹھوکر کھائی ہے۔ اس لیے اے پیغمبر ! ہم ٹھیک ٹھیک آپ پر انھیں نازل کر رہے ہیں کیونکہ آپ کے بعد کوئی اور آنے والا نہیں آئے گا۔ اللہ نے رسالت کو ختم کردیا ہے۔ دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر اسے حق کی ضرورت ہے تو وہ صرف آپ کی بارگاہ سے مل سکتا ہے۔ قیامت کے دن ہم نے جس انجام کی خبر دی ہے یہ وہ یقینی انجام ہے جس کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں۔ ایمان اور عمل، اعتصام بحبل اللہ اور اتفاق و اتحاد یہی وہ سکے ہیں جو قیامت کے دن کام آئیں گے۔ انسانوں کی بہتری اور بھلائی کے لیے یہ تمام باتیں کھول کھول کے بیان کی جا رہی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا والوں کے لیے ظلم کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ تو ان کو اپنے رحم سے نوازنا چاہتے ہیں۔ کائنات میں فیصلہ کا اختیار صرف اللہ کو ہے مزید یہ بات بھی ذہنوں میں رہنی چاہیے کہ کائنات اور انسان کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اگر کسی کو اختیار حاصل ہے تو وہ صرف اللہ کی ذات ہے کیونکہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اس کی ملکیت کا حق صرف اللہ کو ہے وہ چونکہ ان سب کا خالق ہے اس لیے اسے حق ہے کہ وہ جو چاہے ان کے بارے میں فیصلے کرے اور جس طرح چاہے احکام دے اور یہ بات انسانوں کو اچھی طرح معلوم ہونی چاہیے کہ انھیں جو احکام دیئے جا رہے ہیں اور زندگی کے جن حقائق سے انھیں آشنا کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک ایک بات، ایک ایک عمل اور ایک ایک ارادہ اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والا ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ جس طرح انسان مرنے کے بعد ایک دن اپنے اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا اسی طرح انسانوں کے اعمال بھی اور ان کی زندگیوں کی تفصیلات بھی اللہ کی طرف لوٹائی جاتی ہیں، وہیں سے جو فیصلہ ہوگا وہی انسان کا اصل مقدر ہوگا۔
Top