Ashraf-ul-Hawashi - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اے پیغمبر اگر کوئی تیرے ساتھ برائی کرے تو برائی کا دفعیہ12 اس طرح سے کر جو بہت اچھا ہے ہم خوب جانتے ہیں جو یہ کافر کہتے ہیں
12 ۔ یعنی بدی کا بدلہ نیکی، ظلم کا بدلہ انصاف، خیانت کا بدلہ دیانت داری، جھوٹ کا بدلہ، سچ، قطع رحمی کا بدلہ صلہ رحمی اور گالی گلوچ کا بدلہ دعا وسلام سے……دیجئے نتیجہ کیا ہوگا ؟ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔ یعنی اس طرح جو آپ ﷺ کا دشمن ہے وہ آپ ﷺ کا دلسوز دوست ہوجائے گا۔ (فصلت :34) اس میں عفو و درگزر کی تعلیم دی ہے اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لئے یہ تریاق نافع ہے۔ (ابن کثیر) چناچہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے کسی پر زیادتی کی ہو یا اس سے ذاتی انتقام لیا ہو۔ الا یہ کہ اس نے اللہ کی مقرر کردہ کسی حد کو پامال کیا جو آپ ﷺ نے اس سے اللہ کے لئے انتقام لیا۔ (مسلم)
Top