Tadabbur-e-Quran - Al-Anbiyaa : 80
وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ
وَعَلَّمْنٰهُ : اور ہم نے اسے سکھائی صَنْعَةَ : صنعت (کاریگر) لَبُوْسٍ : ایک لباس لَّكُمْ : تمہارے لیے لِتُحْصِنَكُمْ : تاکہ وہ تمہیں بچائے مِّنْ : سے بَاْسِكُمْ : تمہاری لڑائی فَهَلْ : پس کیا اَنْتُمْ : تم شٰكِرُوْنَ : شکر کرنے والے
اور ہم نے اس کو تمہارے لیے ایک خاص جنگی لباس کی صنعت سکھائی تاکہ وہ تم کو جنگ میں محفوظ رکھے تو کیا تم بھی اسی طرح شکر کرنے والے بنتے ہو !
رات کا راہب اور دن کا شہسوار یعنی یہ زاہد شب زندہ دار یہ نہ سمجھو کہ صرف تنہائی کے گوشوں میں بیٹھ کر اللہ ہو کرنے والا ہی تھا بلکہ یہ جس طرح رات کا راہب تھا اسی طرح دن کا شہسوار بھی تھا۔ ہم نے جنگ کے حملوں سے حفاظت کے لئے اس کو ایک خاص لباس بنانے کی تعلیم دی۔ اس خاص لباس سے اشارہ زرہ کی طرف ہے۔ اس کے موجد حضرت دائود ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ زرہ کی جو اعلیٰ قسمیں حضرت دائود نے ایجاد کیں دیسی زر ہیں ان سے پہلے وجود میں نہیں آئی تھیں۔ عربی کی رزمیہ شاعری میں دائودی ساخت کی زر ہوں کا ذکر بہت آتا ہے۔ اس عہد کے دفاعی اسلحہ میں سب سے زیاہ اہمیت اسی کو حاصل رہی ہے۔ اب زمانہ بہت بدل چکا ہے۔ ان آلات و اسلحہ کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ لیکن جس زمانے کی یہ بات ہے اس زمانے میں حضرت دائود اپنی انہی ایجادات کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے مالک تھے۔ مقصود اس کے ذکر سے یہ ہے کہ حضرت دائود باللیل رھبان وبالنھار فرسان کی صحیح تصویر تھے۔ ایک طرف ان کی پرسوز دعائوں اور مناجاتوں سے پہاڑوں کا دل موم ہوتا، دوسری طرف ان کی جنگلی ایجادات اور ان کی فوجی یلغاروں سے دشمنوں پر لرزہ طاری رہتا۔ شکر میں حضرت دائود کی پیروی کی دعوت فھل انتم شکرون حضرت دائود کی زندگی کے ان دونوں پہلوئوں کو نمایاں کرنے کے بعد مخاطبوں کو خطاب کر کے سوال کیا کہ کیا اس طرح کے شکر گزار بندے بننے کا حوصلہ تم بھی رکھتے ہو ! حکمت، نبوت، حکومت اور قوت سب کچھ پا کر حضرت دائود کے فقر و درویشی کا یہ حال تھا دین و دنیا کی یہی بہم آمیزی خدا کو مطلوب ہے اور خدا کے شکر گزار بندے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ نہ کہ وہ ہیز لوگ جو دائود و سلیمان کی سطوت و عظمت کے گیت تو بہت گاتے ہیں لیکن دنیا کے کتے بنے ہوئے ہیں۔
Top