Tafheem-ul-Quran - Al-Muminoon : 91
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ
مَا اتَّخَذَ : نہیں بنایا اللّٰهُ : اللہ مِنْ وَّلَدٍ : کسی کو بیٹا وَّمَا كَانَ : اور نہیں ہے مَعَهٗ : اس کے ساتھ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی اور معبود اِذًا : اس صورت میں لَّذَهَبَ : لے جاتا كُلُّ : ہر اِلٰهٍ : معبود بِمَا خَلَقَ : جو اس نے پیدا کیا وَلَعَلَا : اور چڑھائی کرتا بَعْضُهُمْ : ان کا ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاک ہے اللہ عَمَّا : اس سے جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے، 84 اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے۔ 85 پاک ہے اللہ اُن باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں
سورة الْمُؤْمِنُوْن 84 یہاں کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ یہ ارشاد محض عیسائیت کی تردید میں ہے۔ نہیں، مشرکین عرب بھی اپنے معبودوں کو خدا کی اولاد قرار دیتے تھے، اور دنیا کے اکثر مشرکین اس گمراہی میں ان کے شریک حال رہے ہیں۔ چونکہ عیسائیوں کا عقیدہ " ابن اللہ " زیادہ مشہور ہوگیا ہے اس لیے بعض اکابر مفسرین تک کو یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی کہ یہ آیت اسی کی تردید میں وارد ہوئی ہے۔ حالانکہ ابتدا سے روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے اور آخر تک ساری تقریر کے مخاطب وہی ہیں۔ اس سیاق وسباق میں یکایک عیسائیوں کی طرف کلام کا رخ پھرجانا بےمعنی ہے۔ البتہ ضمناً اس میں ان تمام لوگوں کے عقائد کی تردید ہوگئی ہے جو خدا سے اپنے معبودوں یا پیشواؤں کا نسب ملاتے ہیں، خواہ وہ عیسائی ہوں یا مشرکین عرب یا کوئی اور۔ سورة الْمُؤْمِنُوْن 85 یعنی یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ کائنات کی مختلف قوتوں اور مختلف حصوں کے خالق اور مالک الگ الگ خدا ہوتے اور پھر ان کے درمیان ایسا مکمل تعاون ہوتا جیسا کہ تم اس پورے نظام عالم کی بیشمار قوتوں اور بےحد و حساب چیزوں میں، اور ان گنت تاروں اور سیاروں میں پا رہے ہو۔ نظام کی باقاعدگی اور اجزائے نظام کی ہم آہنگی اقتدار کی مرکزیت و وحدت پر خود دلالت کر رہی ہے۔ اگر اقتدار بٹا ہوا ہوتا تو صاحب اقتدار میں اختلاف رونما ہونا یقیناً ناگزیر تھا۔ اور یہ اختلاف ان کے درمیان جنگ اور تصادم تک پہنچے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ یہی مضمون سورة انبیاء میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ لَوْ کَانَ فَیْھِمَآ اٰلِھَۃٌ اِلَّا اللہُ لَفَسَدَتَا، (آیت 22)۔ " اگر زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا "۔ اور یہی استدلال سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ لَوْ کَانَ مَعَہ اٰلِھَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا الیٰ ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلاً۔ (آیت 42) " اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو ضرور وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کرتے "۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل، حاشیہ 47۔ جلد سوم، الانبیاء، حاشیہ 22۔
Top