Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 91
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
وَقَالُوْا : اور وہ بولے لَوْلَآ : کیوں نہ اُنْزِلَ : نازل کی گئی عَلَيْهِ : اس پر اٰيٰتٌ : نشانیاں مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ : اس کے رب سے قُلْ : آپ فرمادیں اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں الْاٰيٰتُ : نشانیاں عِنْدَ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے پاس وَاِنَّمَآ اَنَا : اور اس کے سوا نہیں کہ میں نَذِيْرٌ : ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
نہ تو اللہ نے کسی ہستی کو اپنا بیٹا بنایا ہے ، نہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہوسکتا ہے اگر ہوتا تو ہر معبود اپنی ہی مخلوق کی فکر میں رہتا اور ایک معبود دوسرے معبود پر چڑھ دوڑتا ، اللہ کی ذات ان باتوں سے پاک ہے جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی کوئی اور معبود اس کے ساتھ ہے : 91۔ زیر نظر آیت کا روئے سخن کس سے ہے ؟ عام طور پر یہی سمجھا گیا ہے کہ اس سے مراد عیسائی ہیں کیونکہ وہی وہ قوم ہے جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ قرار دیا ہے ۔ بلاشبہ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ کہا لیکن عیسائیوں سے پہلے یہودی بھی عزیر (علیہ السلام) کو ” ابن اللہ “ کہہ چکے تھے اگرچہ عیسائیوں کا ایسا کہنا زیادہ مشہور اور زبان زد خاص وعام ہوگیا تاہم اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سی قوموں نے اپنے اپنے دور کے مذہبی پیشواؤں کو اس خطاب سے نوازا اور اسی طرح اہل عرب اور خصوصا اہل مکہ بھی دوسری قوموں کی دیکھا دیکھی ایسا خیال رکھتے تھے اور قرآن کریم نے ملائکہ کے متعلق وضاحت سے بیان کیا ہے کہ مشرکین مکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں قرار دیتے ہیں جیسا کہ سورة النحل کی آیت 57 میں اس کا ذکر گزر چکا اور سورة الصفت میں فرمایا ” بھلا ان ان لوگوں سے ذرا پوچھو کیا تمہارے رب کے لئے تو بیٹیاں ہوں اور تمہارے لئے ہوں بیٹے ‘ کیا واقعی ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور یہ لوگ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں ؟ “ (37 : 149 ‘ 150) اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زیر نظر آیت سے بھی خطاب کفار مکہ ہی سے ہے اور قرآن کریم اس جہالت پر جھنجھوڑے جا رہا ہے کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد منسوب کرتے اور قیاس کے گھوڑے کیوں دوڑاتے ہو اور بغیر تحقیق کے باتیں کیوں کرتے ہو ؟ حالانکہ اس بات کا تم کو بھی اقرار ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا الہ اور معبود نہیں ہے ۔ ہاں ! دوسرے پر چڑھ دوڑتا اور اس طرح یہ سارا نظام ایک دن بھی نہ چل سکتا جو اتنی مدت سے چل رہا ہے اور باقاعدگی کے ساتھ چلتا جا رہا ہے ، یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک صرف اور صرف ایک ہے اور وہی اس کا ناظم بھی ہے ۔ تفصیل اس مضمون کی پیچھے سورة الانبیاء کی آیت 22 اور سورة بنی اسرائیل کی آیت 42 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔
Top