Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 90
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِالْحَقِّ : سچی بات وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے سچائی انہیں جتلا دی اور یہ اپنے دعویٰ میں قطعاً جھوٹے ہیں !
ہم نے سچائی انہیں بتلا دی اور یہ اپنے دعوی میں بالکل جھوٹے ہیں : 90۔ ضدی اور ہٹ دھرم کس کو کہتے ہیں ؟ وہی جو کوئی دلیل نہ رکھتا ہو اور بغیر دلیل کے اپنی بات پر اڑا رہے وہی جو دلائل کے مقابلہ میں باپ دادا کے رسم و رواج کو پیش کرے ، وہی جو یہ کہے کہ کیا کبھی سارے غلط اور ایک صحیح ہو سکتا ہے ، وہی جو بغیر دلیل کے اپنا دعوی پیش کرتا رہے ، وہی جو دلائل کے مقابلہ میں اپنی اکثریت کو پیش کرے ، فرمایا اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں ‘ کون ؟ وہی جو اللہ کے سوا کسی اور کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا جانتے اور مانتے ہیں ‘ وہی جو کہتے ہیں کہ زندگی بعد موت ممکن نہیں ہے ۔ وہی جو ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کو زمین و آسمان کا مالک اور کائنات کی ہرچیز کا مختار مانتے ہیں اور دوسری طرف ان کاموں میں دوسروں کو بھی شریک کرتے ہیں ، وہی جو متضاد عقائد ونظریات رکھتے ہیں ، وہی جو ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کو پیدا کرنے والا اور سارے نظام کا چلانے والا تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دوبارہ پیدا کیا جانے کا نظریہ ایک ڈھکوسلا ہے ، وہی جو اس دنیا میں پیدا ہونے اور انعامات الہی سے مستفید ہونے کے باوجود آخرت کا انکار کرتے ہیں خواہ اعتقادا خواہ عملا ۔
Top