Taiseer-ul-Quran - Al-Muminoon : 92
عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠   ۧ
عٰلِمِ الْغَيْبِ : جاننے والا پوشیدہ وَالشَّهَادَةِ : اور آشکارا فَتَعٰلٰى : پس برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک سمجھتے ہیں
وہ سب پوشیدہ اور ظاہر باتوں کا جاننے والا 90 ہے اور جن چیزوں کو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں ان سے وہ بالاتر ہے۔
90 یعنی اللہ کے علاوہ اگر کسی اور ہستی کے پاس رتی بھر بھی اختیارات ہوتے تو تو اس کا سب سے علم اللہ کو ہی ہوسکتا تھا کیونکہ موجود اشیاء اور موجودہ علم کے علاوہ غیر موجود اشیاء اور نامعلوم علم کا بھی جاننے والا ہے اور اس سے کوئی چیز بھی مخفی رہنا ناممکنات سے ہے۔ اور اپنی اس وسعت علم کی بنا پر ہی یہ فرما رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ نہ کوئی الٰہ ہوسکتا ہے نہ کسی کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار ہے لہذا مشرکوں کے ان بیہودہ عقائد سے اللہ کی شان بہت بلند وبالا ہے۔
Top