Ahsan-ut-Tafaseer - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور1 جس کو خدا گمراہ کرے پس اس کا کوئی رفیق نہیں اس کے بعد، اور تم ان ظالموں کو دیکھو گے جب وہ (قیامت کے دن) عذاب کو دیکھیں گے (تو) کہیں گے کیا (دنیا) میں واپس جانے کی کوئی راہ ہے اور تم ان کو دیکھو گے کہ جب وہ دوزخ پر پیش کیے جائیں گے ذلت سے عاجزی کرتے ہوئے چھپی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔
کافروں کا انجام اور نافرمانی کی زندگی۔ (ف 1) ان آیتوں میں اللہ کی توفیق ودست گیری ہی سے آدمی کو ایمان حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اللہ اپنے مقدس مذہب کی راہ نہ دے تو کون ہے جو ہاتھ پکڑا اخلاقی پستی اور گمراہی کے گڑھے سے ہم کو نکال سکے، آگے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کافروں کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ بروز قیامت عذاب کی سختی اور تکلیف دیکھیں گے تو وہ اس حالت کو دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور یہ تمنا کریں گے اور ان کو دوبارہ دنیا میں جانے کی کوئی راہ مل جائے تاکہ دوبارہ دنیا میں جاکر نیک کام کریں اور عذاب دوزخ سے نجات پائیں اور سہمے ہوئے مجرم کی طرح خوف اور ذلت وندامت کے مارے نیچی نظریں سے دیکھتے ہوں گے کسی سے پوری طرح آنکھ نہ ملاسکیں گے اور میدان محشر میں ایماندار لوگ جب ان نافرمان لوگوں کا حال دیکھیں گے، کہ نافرمان لوگ دوزخ کو کن آنکھوں سے دیکھ کر پھر دوبارہ دنیا میں جانے اور نیک عمل کرنے کی آرزو کررہے ہیں تو اس وقت جو ایماندار لوگ ان نافرمانوں لوگوں کو قائل کرنے کے طور کہیں گے کہ جو وقت نیک عمل کرنے کا تھا وہ تم نافرمان لوگوں نے ہاتھ سے کھودیا اور سرکشی کے سبب سے دنیا میں ایسی تجارت کی جس کے سبب سے اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو نقصان میں ڈالا، بیشک ظالم کافر مشرک ایسے عذاب میں گرفتار ہوں گے جو ہمیشہ قائم رہے گا اور وہاں ان کے بت، یا عزیزواقارب وغیرہ کام نہ آئیں گے کہ ان کی مدد کریں اور عذاب الٰہی سے بچالیں، نجات دلائیں آگے فرمایا اے لوگو اس بےکسی کے وقت کے آنے سے پہلے اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری قبول کرلو، تو ابھی وقت ہاتھ سے نہیں گیا ہے جب وقت ہاتھ سے جاتار ہے گا تو پھر پچھتانا کچھ کام نہ آئے گا، فرمایا اے محبوب ﷺ اس نصیحت کے بعد بھی اگر یہ نافرمان لوگ نہ مانیں تو تمہارا کام اتنا ہی ہے کہ تم ان کو اللہ کی نصیحت پہنچادو، پھر اگر یہ نہ مانیں تو اللہ ان سے سمجھ لیوے گا پھر فرمایا کہ ان نافرمان لوگوں کے لیے اللہ کی نصیحت نہ ماننے کا بڑا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں کسی قدر فراغت دے رکھی ہے اور یہ انسان کی جبلی عادت ہے کہ فراغت کے وقت بجائے اللہ کے شکر کے اتراتے لگتا ہے اور تکلیف کے وقت اللہ کی تمام نعمتوں کو بھول کر بجائے خدا سے ڈرنے کی خدا کی ناشکری کرنے لگتا ہے پھر فرمایا کہ زمین اور آسمان سب ملک کا اللہ کا ہے کسی کی ناشکری اور نافرمانی سے اللہ کے ملک میں کوئی فتور پڑجاتا ہے خدا کی بادشاہت ایسی نہیں ہے خدا ایسازبردست بادشاہ ہے کہ اس کو کسی کی نافرمانی اور ناشکری اور مخالفت کی کچھ پر اوہ نہیں ہے جس طرح اس کی حکومت غریب لوگوں پر ہے وہ ویسی ہی بادشاہوں پر ہے بڑے بڑے بادشاہوں میں سے جس کو چاہے بےاولاد رکھے، جس کو چاہے بجائے لڑکے کے لڑکی دیوے کسی کا اس پر کچھ زور اور بس نہیں چل سکتا۔
Top