Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 85
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ
سَيَقُوْلُوْنَ : جلدی (ضرور) وہ کہیں گے لِلّٰهِ : اللہ کے لیے قُلْ : فرمادیں اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ : کیا پس تم غور نہیں کرتے
وہ فوراً کہیں گے اللہ کے لیے ، تو پھر کیا ہے کہ تم غور نہیں کرتے ؟
منکرین کے تضاد کو کس خوبی کے ساتھ انہی کی زبانی واضح کرا دیا گیا ؟ : 85۔ قرآن کریم کا یہ وہ اعجاز ہے جو کسی دوسری آسمانی کتاب میں بھی نہیں ملتا کہ وہ منکرین ومعاندین سے بھی بات کرتا ہے تو اپنا انداز بیان اور لہجہ ترش نہیں کرتا ۔ غور کرو کہ اس نے منکرین کے تضاد وفکر کو کس طرح نمایاں کیا اور پھر انہیں کی زبان سے نمایاں کرا دیا کہ ایک طرف تو وہ قیامت کے منکر ہیں اور اس نظریہ کو ایک من گھڑت قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ اس ساری کائنات کے بنانے والے اور اس کا مکمل انتظام سنبھالنے والے اللہ کو بھی اسی طرح مانتے اور تسلیم کرتے ہیں جس طرح خود رسول مانتا اور تسلیم کرتا ہے حالانکہ ان کی یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ بات تو ہو رہی تھی قیامت کے آنے کی اور جو انسان دنیا میں کرتا ہے اس کا نتیجہ قیامت کے روز سامنے پیش کئے جانے کی اور جن سے یہ باتیں کی جا رہی تھیں وہ اس کو سن کر اس کا مذاق اڑا رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی تضحیک کا باعث بنے ہوئے تھے جونہی موضوع بدل دیا گیا تو وہ وہی بات کہنے لگے جو رسول اللہ ﷺ ان سے کہہ رہے تھے اس طرح گویا وہ ایک طرف کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور دوسری طرف کا انکار کرتے تھے حالانکہ ایک کو ماننے سے دوسری بات خود بخود تسلیم ہوجاتی تھی ، اس سے بتایا یہ جا رہا ہے کہ ان کے نظریات گویا مجموعہ تضادات ہیں اور جن لوگوں کے عقائد ونظریات میں تضاد ہو وہ کبھی صحیح نہیں ہو سکتے ۔ آج مسلمانوں کی اکثریت کا نہیں بلکہ علمائے کرام کی اکثریت کا بھی یہ حال ہے کہ ان کے نظریات و عقائد تضادات کا پلندہ ہیں لیکن وہ اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ اس حالت کو مٹانے کے لئے قرآن کریم کا نزول ہوا اور انہی باتوں کو مٹانے کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ معبوث ہوئے ، قریش مکہ کی جس حالت کا ذکر یہاں کیا گیا ہے اس کو قرآن کریم نے بار بار دہرایا ہے کیوں ؟ محض اس لئے کہ جو ٹھوکر گزشتہ قوموں کو لگی وہی قریش مکہ کو بھی لگ چکی اور اب تو اس ٹھوکر سے بچنے کوشش کی جائے لیکن افسوس کہ آج مسلمان اور خصوصا مذہبی پیشوا اور راہنما بھی اس ٹھوکر سے نہ بچ سکے ۔ وہ تضادات کیا ہیں ؟ ایک دو ہوں تو آدمی کہے پورا دین اسلام ہی انہوں نے اس وقت مجموعہ تضادات بنا کر رکھ دیا ہے ۔ مثلا کوئی مکتبہ فکر ایسا نہیں جو انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کو معصوم نہ مانتا ہوں لیکن اس کے باو وجود ہر نبی ورسول کے متعلق کتنی کتنی باتیں تسلیم کرتے ہیں جو سراسر عصمت کے خلاف ہیں جیسا کہ آپ پیچھے سے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک ایک ایک نبی ورسول کا حال دیکھتے چلے جاؤ سب کی یہی حالت ہے ، سب مکاتب فکر تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی خالق نہیں اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے کئی نبیوں ‘ رسولوں اور ولیوں کو خالق بھی مانتے ہیں اور بڑے زور وشور سے کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم میں موجود ہے ، سارے مکاتب فکر (لا یعلم الغیب الا اللہ) کی صدائیں بھی بلند کرتے ہیں اور کسی نہ کسی رنگ میں سب کے سب غیر اللہ کو عالم الغیب بھی تسلیم کرتے ہیں ، سارے مکاتب فکر کو تسلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ زندگی عطا کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور وہی زندہ کرے گا اور اس طرح یہ قانون بھی تسلیم ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ ایک بار اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے یعنی وفات دے دیتا ہے دوبارہ کبھی نہیں بھیجتا اور پھر جس کو چاہتے ہیں زندہ بھی کرلیتے ہیں اور دنیا میں بھی لے آتے ہیں ۔ گزشتہ قوموں نے اپنے بزرگوں ‘ ولیوں ‘ نبیوں اور رسولوں کی وفات کے بعد ان کے بت بنائے اور اسی طرح ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ان پر منتیں مانیں اور ان کو متبرک سمجھا آج مسلمانوں کی اکثریت نے بھی اپنے نبیوں ‘ رسولوں ‘ ولیوں اور بزرگوں کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے قبریں اور روضے تیار کئے ان پر منتیں مانیں اور ان کو متبرک سمجھا ، سارے مکاتب فکر نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا اور پھر رسول کے واضح اور کھلے ارشادات کو چھوڑ کر اپنے تسلیم شدہ اماموں ‘ پیشیواؤں ‘ مجتہدوں ‘ پیروں اور بزرگوں کی باتوں کو حرزجان بنایا ۔ سب نے تسلیم کیا کہ قرآن کریم اپنے ماننے والوں کو بھی اور نہ ماننے والوں کو بھی دعوت فکر و تدبر پیش کرتا ہے اور پھر سب نے یہ راگ بھی الاپا کہ دین میں عقل وفکر اور تدبر کو کچھ دخل نہیں ۔ غور کرو گے تو اس طرح کے بیسیوں نہیں سینکڑوں تضادات پاؤگے ۔ قرآن کریم ان سب سے ایک ہی بات کہتا ہے کہ (افلا تذکرون ‘ ؟ ) اپنے ان مسلمات کی روشنی میں تم آخر اپنے عقائد ونظریات کا جائز کیوں نہیں لیتے ؟ ۔ ایک طرف مانتے ہو اور دوسری طرف اس بات کا انکار کیوں کردیتے ہو ؟ دین کو تم نے مجموعہ تضادات کیوں بنا دیا ہے ؟ تمہارا جو قدم اٹھتا ہے وہ قرآن کریم کے خلاف ہی کیوں اٹھتا ہے ؟ فرمایا اس طرح کے سوالات آپ ﷺ ان سے پوچھتے جائیں ۔
Top