Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
[ برائی کو برائی سے نہیں بلکہ ایسے طرز عمل کے ذریعہ دور کر جو بہترطرز عمل ہو ، ہم ان سے بیخبر نہیں جو یہ تیری نسبت کہتے ہیں
اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کو عفو و درگزر کرنے کی ہدایت خاص : 96۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو تلقین کی جارہی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے برے سلوک کا جواب بدستور اپنے اچھے سلوک سے دیتے جائیں کہ ہر ایک انسان کی ظرف سے وہی کچھ نکلے گا جو اس نے اپنے ظرف میں بھرا ہے اور جہالت کا جواب برابر خاموشی سے دیتے چلے جائیں کیونکہ جہالت کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کیونکہ جاہل جس زبان کو سمجھتا ہے وہ علم کی زبان نہیں ہو سکتی چناچہ محاورہ ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔ “ جو جو بدتمیزیاں اور ہرزہ سرائیاں یہ لوگ کر رہے ہم ان سے خوب واقف ہیں اور ان کی کوئی حرکت بھی ہم سے پوشیدہ نہیں آپ ﷺ اپنا کام کئے جائیں اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں ان کی شرارتوں کا مزہ ہم ان کو چکھا دیں گے ان کا سارا معاملہ آپ ﷺ ہم ہی پر چھوڑ دیں ۔ یہی وہ ادب ہے جو نبی اعظم وآخر ﷺ کو سکھایا گیا اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ادبنی ربی فاحسن تادیبی ” میرے رب نے مجھے ادب سکھایا اور ادب سکھانے میں کمال کردیا ہے “ اور نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی اسی ادب کی عملی تصویر ہے ۔ کاش کہ یہ سبق آج ہمارے قومی ‘ مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کو بھی یاد آجائے اور وہ زیادہ نہیں تو ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہی سیکھ جائیں ۔ افسوس کہ ہمارا ہر راہنما خواہ مذہبی پیشوا ہو یا سیاسی لیڈر اس سبق کو مکمل طور پر بھول چکا ہے اور ہر طرف سے ہم ” چوما دیگرے نیست “ کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے ۔
Top