Urwatul-Wusqaa - Al-A'raaf : 164
فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ
فَقَدْ كَذَّبُوْا : پس بیشک انہوں نے جھٹلایا فَسَيَاْتِيْهِمْ : تو جلد آئیں گی ان کے پاس اَنْۢبٰٓؤُا : خبریں مَا كَانُوْا : جو وہ تھے بِهٖ : اس کا يَسْتَهْزِءُوْنَ : مذاق اڑاتے
(اے پیغمبر اسلام ! ) بلاشبہ یہ جھٹلا چکے ، پس عنقریب ان کو اس بات کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے تھے
اگر وہ جھٹلا رہے ہیں تو ہم نے جھٹلانے والوں کی خبریں بھی ان کو بتا دیں ہیں : 6۔ جب انہوں نے دین حق کو معقولیت کے ساتھ سمجھانے کے باوجود اسے جھٹلادیا ہے اور اس کا مذاق اڑایا ہے عنقریب جزاوسزا کے روز انہیں قرآن کریم اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی تکذیب کی حقیقت مختلف طریقوں سے معلوم ہوجائے گی ۔ کیونکہ نہ تو آپ ﷺ رسول کوئی نئے رسول ہیں اور نہ وہ امت کوئی نئی امت ہے جو آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کے ساتھ ہوا وہی آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہوگا اور جو پہلی امتیں کرتی رہی ہیں وہی یہ لوگ بھی کر رہے ہیں اس لئے یقینی بات ہے کہ نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو گزشتہ دعوت کا نکل چکا ہے ، آپ ﷺ سے کوئی نئی بات نہیں کہی جارہی یہ تو ان کا پرانا شیوہ ہے کہ جب بھی کوئی نبی اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کی بات سننے ہی سے انکار کردیا اب جو ان کو ہماری طرف سے مہلت دی جا چکی ہے وہ گزرتے ہی اس کا نتیجہ پالیں گے جو استہزاء کرنے والوں کے لئے ہمارے قانون میں طے ہے ۔
Top