Bayan-ul-Quran - Al-Muminoon : 92
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ
فَاِنْ : پھر اگر اَعْرَضُوْا : وہ اعراض برتیں فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو عَلَيْهِمْ : ان پر حَفِيْظًا : نگہبان بنا کر اِنْ عَلَيْكَ : نہیں آپ کے ذمہ اِلَّا الْبَلٰغُ : مگر پہنچا دینا وَاِنَّآ : اور بیشک ہم اِذَآ : جب اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ : چکھاتے ہیں ہم انسان کو مِنَّا : اپنی طرف سے رَحْمَةً : کوئی رحمت فَرِحَ بِهَا : خوش ہوجاتا ہے وہ اس پر وَاِنْ تُصِبْهُمْ : اور اگر پہنچتی ہے ان کو سَيِّئَةٌۢ : کوئی تکلیف بِمَا قَدَّمَتْ : بوجہ اس کے جو آگے بھیجا اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھوں نے فَاِنَّ الْاِنْسَانَ : تو بیشک انسان كَفُوْرٌ : سخت، ناشکرا
پھر (اے پیغمبر اسلام ! ) اگر وہ روگردانی کریں تو ہم نے آپ کو ان پر کوئی ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا آپ ﷺ کا کام تو بس پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو انسان بڑا ناشکرا ہے
اعراض کرنے والوں پر آپ ﷺ کو داروغہ نہیں لگایا گیا آپ ﷺ کا کام پیغام پہنچانا ہے 48 ؎ یہ رسول مکرم و نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے ساری امت تک یہ پیغام پہنچایا جا رہا ہے کہ جو لوگ آپ کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے بگوش ہوش سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ان کی ذمہ داری آپ ﷺ پر مطلق نہیں ہے اور نہہی آپ سے یہ سوال کیا جائے گا کہ فلاں نے اگر آپ ﷺ کا پیغام نہیں سنا تو آخر کیوں ؟ اس لیے کہ آپ ﷺ کے ذمہ فقط پیغام کا پہنچانا ہے ، پیغام کا منوانا نہیں ہے اور یہ بھی ہم کو معلوم ہے کہ قوم کے کھاتے پیتے اور برسر آوردہ لوگ کبھی کسی بات کو سننے کے لییتیار نہیں ہوتے بلکہ وہ اس نشہ میں چور ہتے ہیں کہ ” ہم چوما دیگرے نیست “ ہاں ! جب کبھی ان کو اپنے کیے کے نتیجہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو اسی وقت جزع و فزع کرنے لگتے ہیں اور ناشکری و بےصبری کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی اس حالت پر آپ کو زیادہ غمگین نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنا فریضہ انجام دینا ہی آپ کو کفایت کرے گا ہم نے یہ اصول مقرر کردیا ہوا ہے کہ جو کرتا ہے انجام کار وہ بھرتا ہے۔ ہاں ! پھر جو مہلت ہم نے دے رکھی ہے تو یہ محض اس لیے ہے کہ جو خود اپنی اصلاح چاہتا ہے وہ اصلاح کرلے اور جو اصلاح نہیں چاہتا اس پر اتمام حجت ہوجائے کہ ہم نے مہلت دے دی تھی اگر کسی نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو اس کا وبال اس پر پڑے گا اور بلاشبہ ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جو اس نے اپنے لیے اس دنیوی زندگی میں حاصل کیا بلاشبہ اچھے کا بدلہ اچھا اور برے کا برا ہی نکلے گا اور آخرت کا قیام محض اس مقصد کے لیے ہے۔ ہر خطیب ، واعظ اور ناصح کے لیی اسی میں نصیحت ہے کہ وہ مخاطبین کے۔ مخاطب کرنے میں کیا طریقہ اختیار کرے کہ وہ منہ نہ چڑھاتے ہوئے اس کی بات کو کم از کم سننا تو گوارا کرلیں۔ قرآن کریم میں یہ انداز اکثر اختیار کیا گیا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے خطیبوں ، واعظوں اور ناصحین قوم نے اس کو بہت ہی کم سمجھا ہے اس لیے وہ ہمیشہ جلتی پر تیل ہی ڈالنے کے عادی ہیں اور دوسروں کے زخموں پر نمک چھڑکنا ان کو خوب آتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو کسی نے سیکھا ہے وہی اس کو آتا ہے یہاں سے مضمون توحید کی طرف منتقل ہوتا نظر آتا ہے۔
Top