Urwatul-Wusqaa - Al-Hadid : 6
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
يُوْلِجُ الَّيْلَ : داخل کرتا ہے رات کو فِي النَّهَارِ : دن میں وَيُوْلِجُ النَّهَارَ : اور داخل کرتا ہے دن کو فِي الَّيْلِ ۭ : رات میں وَهُوَ عَلِيْمٌۢ : اور وہ جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
(وہی) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور جو کچھ (لوگوں کے) سینوں میں ہے اور وہ اس سے بھی باخبر ہے
6 ؎ غور کرو کہ رات کا اور دن کا تعلق کس چیز پر قائم ہے ؟ تمہاری اس زمین سے جس میں تم کو اس نے بایا ہے اور تمہارے ان آسمانوں سے جن کے اندر سورج ، چاند اور کروڑوں کی تعداد میں دوسرے ستارے اور سیارے گردش کر رہے ہیں ان سب کے بندھن کا نام دن اور رات ہے اور پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کائنات میں سے جس میں یہ زمین بھی اور یہ آسمان بھی ایک چیز بھی ایسی نہیں جو ارا ادہ اختیار رکھتی ہو ہر ایک چیز اس کے قانون میں اس طرح باندھ دی گئی ہے کہ وہ نہایت پابندی کے ساتھ گردش کر رہی ہے اور انہیں کی گردش سے تمہارے دن رات پیدا ہو رہے ہیں ، وہ اپنے قانون کے مطابق چاہتا ہے تو رات کو کم کرنا شروع کردیتا ہے اور پھر کم کرتے کرتے ایک جگہ پر لے جا کر کھڑا کردیتا ہے اور جب چاہتا ہے دن کو کم کرنا شروع کردیتا ہے اور آہستہ آہستہ کم کرتے کرتے اپنے قانون کے مطابق ایک جگہ لے جا کر اس کو روک دیتا ہے اور پھر واپسی شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے لاریب یہ اسی مالک حقیقی کی چاہت سے ہو رہا ہے لیکن کس ترتیب کے ساتھ کہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور یہ کمی بیشی بھی بدستور جاری رہتی ہے ۔ غور کرو کہ کیا یہ اس کے چاہنے سے نہیں ہے ؟ ہاں ! بیشک یہ سب کچھ اسی کے چاہنے سے ہے۔ ایک بار پھر غور کرلو کہ جب یہ سب کچھ اسی کے چاہنے سے ہے اور تم بھی مانتے ہو کہ ہاں اسی کے چاہنے سے ہے تو پھر ہر وہ کام جو اس کے قانون کے مطابق ہو رہا ہے اس کو تم اس کی چاہت کیوں تسلیم نہیں کرتے اور کیوں ایسی باتیں گھڑتے ہو جو اس کے قانون قدرت کے خلاف ثابت کر کے تم کو تسکین آتی ہے کہ اب ہم کو تسلی ہوئی ہے کہ یہ اس کے چاہنے سے ہے مثلاً اس نے انسانی پیدائش کے لیے ایک قانون بنایا بالکل اس طرح جس طرح رات دن کی کمی بیشی کے لیے ایک قانون بنایا ۔ اب پیدائش جب اس کے قانون قدرت کے مطابق ہوتی ہے تو تم اس کو اس کی چاہت سے تعبیر نہیں کرتے اور پھر فرضی داستانیں گھڑتے ہو کہ فلاں آدمی بغیر باپ کے پیدا ہوا ، کیسے ؟ کہ بس اللہ کے چاہنے سے ۔ اس وقت تم کیوں بھول جاتے ہو کہ یہ پیدائش جو ماں باپ کے توسط سے پیدا ہو رہی ہے وہی اللہ کے چاہنے سے پیدا ہوتی ہے اور یہ بغیر باپ کے کہنا کہ اور وجہ سے ہوگا اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس کا باپ کوئی نہیں تھا کیونکہ قانون الٰہی کے مطابق جو ولد ہے اس کے لیے اس کی ماں بھی لازم اور باپ بھی تب ہی جا کر وہ ولدکہلاسکتا ہے۔ ہاں ! اگر کوئی کسی کا ولد نہیں ، تو مانا جاسکتا ہے کہ اس کا کوئی باپ نہ ہو یا کوئی ماں نہ ہو اور یہ بھی کہ دونوں ہی نہ ہوں اور اس کا تعلق محض تخلیق الٰہی سے ہو مختصر یہ کہ جو اس کے قانون کے مطابق ہو رہا ہے اور ہوتا ہی چلا جا رہا ہے بلا شبہ یہ اس کے چاہنے سے ہے اور اس کی چاہت کے علاوہ کسی چیز کا وجود ممکن ہی نہیں۔ جس طرح رات اور دن کی تبدیلی ہونے کے بعد جو حصہ رات کا دن ہوجاتا ہے وہ دن ہی کہلاتا ہے نہ کہ رات اور اسی طرح جو حصہ دن کا رات ہوجاتا ہے وہ رات ہی کہلاتا ہے نہ کہ دن اور اس کو ہم رات اور دن کی کمی بیشی سے تعبیر کرتے ہیں ۔ پس جو یہ اتناا بڑا کام تمہاری آنکھوں کے سامنے کر رہا ہے اور تم اس کو ان آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہو اور پھر وہ تمہارے سیٹوں کے رازوں سے بھی واقف ہے اور تمہاری کوئی حرکت وہ رات میں ہو یا دن میں ، چھپ کر کرو یا ظاہر ہو کر وہ ہر حال میں اس کو جانتا ہے پھر حرکت تو فعل و عمل اور قول پر اخلاق کرتی ہے ۔ وہ تو سیٹوں کے رازوں سے بھی واقف ہے۔
Top