Urwatul-Wusqaa - Al-Haaqqa : 11
فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِیَةً
فَعَصَوْا : تو انہوں نے نافرمانی کی رَسُوْلَ رَبِّهِمْ : اپنے رب کے رسول کی فَاَخَذَهُمْ : تو اس نے پکڑ لیا ان کو اَخْذَةً : ایک پکڑ رَّابِيَةً : سخت سے
پس ان لوگوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو ایسی مصیبت میں مبتلا کیا جو بڑھتی ہی چلی گئی
انہوں نے اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا 10 ؎ انہوں نے اپنے اپنے رسول کی نافرمانی کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان قوموں کی طرف ہر ایک قوم میں ایک رسول بھیجا گیا اور ان ساری قوموں نے اپنے اپنے رسول کی نافرمانی کی اور ان کی نصیحتوں کی کچھ پروا نہ کی جس کا نتیجہ ہر بار یہی ہوا کہ جب ان میں سے ہر قوم کو دی گئی مہلت ختم ہوئی تو اس قوم کو غرق کر کے رکھ دیا گیا اور ان پر جو عذاب بھی بھیجا گیا ایک سے ایک بڑھ کر تھا۔ (رابیۃ) کے معنی اس جگہ سخت کے ہیں یا آگے بڑھنے کے ہیں اور یہ ربو سے ہے جس کے معنی بڑھنے اور زائد ہونے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤـنث ہے۔ ایک طرح کا سنت اللہ کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ شروع سے سنت اللہ چلی آرہی ہے کہ جس قوم کے پاس بھی اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول بھیجا اس قوم کی اکثریت نے اس رسول کو مخالفت ہی کی لیکن مخالفین کو فوراً مخالفت کرتے ہی پکڑ نہیں لیا گیا بلکہ ان کو کافی مہلت دی گئی اور جب انہوں نے اس مہلت سے فائدہ حاصل نہ کیا تو آخر کار ان کو پکڑ لیا گیا اور ایسا پکڑا گیا کہ ان کو تہس نہس کردیا گیا اور یہ بات مکہ والوں کو بتائی جا رہی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو انجام کار ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو گزشتہ قوموں کے ساتھ ہوا۔
Top