Anwar-ul-Bayan - Al-Haaqqa : 11
اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِی الْجَارِیَةِۙ
اِنَّا : بیشک ہم لَمَّا : جب طَغَا الْمَآءُ : بلندی میں تجاوز کرگیا پانی حَمَلْنٰكُمْ : سوار کیا ہم نے تم کو فِي الْجَارِيَةِ : کشتی میں
جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا
(69:11) انا لما طغی المائ : انا مبتدائ۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ تحقیق ہم نے۔ تحقیق ہم۔ حملنکم مبتداء کی خبر۔ لما طغی الماء ظرف حملنکم کا۔ فی الجاریۃ ای فی سفینۃ نوح علیہ السلام۔ لما بمعنی جب۔ طغی ماضی واحد مذکر غائب۔ طغیان باب نصر و سمع) مصدر سے وہ حد سے نکل گیا۔ (جب نگاہ اپنی حد سے گزر جاتی ہے تو بہکنے لگتی ہے اور جب پانی اپنی حد سے متجاوز ہوتا ہے تو طغیانی آجاتی ہے) یہاں مراد ہے : جب پانی ہر چیز سے اونچا ہوگیا تھا۔ الجاریۃ۔ کشتی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جب پانی حد سے گزر گیا تھا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کرلیا تھا۔ فائدہ : حملنکم میں کم ضمیر جمع مذکر حاضر ہے اس سے مراد تمہارے اسلاف ہیں۔ کیونکہ تم اس وقت اپنے اسلاف اعلیٰ کی پشتوں میں تھے۔ تو جب تمہارے اسلاف کو کشتی میں سوار کیا تو گویا تمہیں کشتی میں سوار کیا۔
Top