Tafseer-e-Majidi - Al-Israa : 87
اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا
اِلَّا : مگر رَحْمَةً : رحمت مِّنْ رَّبِّكَ : تمہارے رب سے اِنَّ : بیشک فَضْلَهٗ : اس کا فضل كَانَ : ہے عَلَيْكَ : تم پر كَبِيْرًا : بڑا
اور جب تمہیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو جنہیں تم پکارا کرتے ہو سب غائب ہوجاتے ہیں بجز اللہ کے پھر جب وہ تم کو خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم (پھر) پھرجاتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے،98۔
98۔ (کہ ایسی جلدی منعم کا انعام و احسان اور اپنا عجز والحاح سب بھول جاتا ہے) (آیت) ” ضل من تدعون “۔ یعنی وہ دیوی دیوتا جن پر تمہیں اتنا بھروسہ ہوتا ہے۔ اور جنہیں مدد کے لیے پکارتے رہتے ہو، سب گئے گزرے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی کام نہیں آتا۔
Top