27. An-Namlالنمل
The Ant · Meccan · 93 ayahs · 7 rukus · مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ﴿1﴾
ط۔ س یہ قرآن اور وضاحت کرنے والی کتاب کی آیات ہیںهُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿2﴾
جو ان ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہیں۔الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ﴿3﴾
جو نماز قائم کرتے، زکوٰۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ﴿4﴾
اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ان کے کرتوتوں کو خوشنما بنادیا ہے۔ لہذا وہ اندھے بنے پھرتے ہیں۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ﴿5﴾
یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں وہی سب سے زیادہ خسارہ میں رہیں گےوَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ﴿6﴾
اور (اے نبی) آپ یہ قرآن ایک حکیم وعلیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہیں۔اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ﴿7﴾
جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ : مجھے آگ سی نظر آئی ہے میں ابھی وہاں سے کوئی (راستہ کی) خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی دہکتا ہوا انگارا لاتا ہوں تاکہ تم تاپ سکو۔فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿8﴾
پھر جب وہ وہاں پہنچے تو ندا آئی کہ مبارک ہے۔ وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے اور پاک ہے اللہ جو سب جہان والوں کا پروردگار ہے۔یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ﴿9﴾
موسیٰ میں ہی اللہ ہوں۔ سب پر غالب اور حکمت والا۔وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ﴿10﴾
اپنی لاٹھی تو ذرا پھینکو، موسیٰ نے جب لاٹھی پھینکی تو دیکھا کہ وہ یوں حرکت کر رہی ہے جیسے سانپ ہو۔ آپ پیٹھ پھیر کر جو بھاگے تو پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ہم نے کہا) موسیٰ ! ڈرو نہیں۔ میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے۔اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿11﴾
ڈرتا تو وہ ہے جس نے کوئی ظلم کیا ہو پھر اگر اس نے (بھی) برائی کے بعد (اپنے اعمال کو) نیکی سے بدل لیا تو میں یقینا بخشنے والا مہربان ہوں۔وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ﴿12﴾
اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کرو وہ کسی مرض کے بغیر چمکتا ہوا نکلے گا۔ (یہ دو معجزے) منجملہ ان نو معجزات کے تھے۔ جو فرعون اور اس کی قوم کے لئے (موسیٰ کو دیئے گئے) بلاشبہ وہ بدکردار لوگ تھے۔فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ﴿13﴾
پھر جب ہمارے ایسے بصیرت افروز معجزے ان کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگے یہ تو صاف جادو ہے۔وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿14﴾
اور انہوں نے از راہ ظلم اور تکبر انکار کردیا حالانکہ ان کے دل یقین کرچکے تھے (کہ موسیٰ سچے ہیں) پھر دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿15﴾
نیز ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا وہ دونوں کہنے لگے ہر طرح کی تعریف اس اللہ کو سزاوار ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ﴿16﴾
اور داؤد کے سلیمان وارث ہوئے۔ انہوں نے کہا : لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز بھی دی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ اللہ کا نمایاں فضل ہے۔وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ﴿17﴾
اور سلیمان کے لیے (کسی مہم کے سلسلہ میں) اس کے جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور ان کی جماعت بندی کردی گئی تھی۔حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿18﴾
یہاں تک جب وہ چیونٹیوں کی ایک وادی پر پہنچے تو ایک چیونٹی بول اٹھی، چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں روند ڈالیں اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ﴿19﴾
سلیمان چیونٹی کی اس بات پر مسکرا دیئے اور دعا کی : اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کرسکوں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور اس بات کی بھی کہ میں ایسے اچھے عمل کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل کروَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ﴿20﴾
(پھر ایک موقع پر) سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے : کیا بات ہے مجھے ہد ہد نظر نہیں آرہا، کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے۔لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ﴿21﴾
(ایسی ہی بات ہوئی) تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے سامنے کوئی معقول وجہ پیش کرے۔فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ﴿22﴾
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ (ہدہد آگیا اور) کہنے لگا : میں نے وہ کچھ معلوم کیا ہے جو ابھی تک آپ کو معلوم نہیں، میں سبا سے متعلق ایک یقینی خبر آپ کے پاس لایا ہوںاِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ﴿23﴾
میں نے دیکھا کہ ایک عورت ان پر حکمرانی کرتی ہے جسے سب کچھ عطا کیا گیا ہے اور اس کا تخت عظیم الشان ہےوَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ﴿24﴾
میں نے (یہ بھی) دیکھا کہ وہ خود اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو آراستہ کرکے انھیں راہ (حق) سے روک دیا ہے، لہذا وہ راہ (حق) نہیں پا رہے۔اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ﴿25﴾
اس اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو ان چیزوں کو نکالتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں پوشیدہ ہیں اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے ظاہر کرتے ہو۔اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩۩﴿26﴾
اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴿27﴾
سلیمان نے کہا : ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹا ہے۔اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ﴿28﴾
یہ میرا خط لے جا اور ان کی طرف پھینک دے پھر ان سے ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ﴿29﴾
(سبا کی ملکہ) کہنے لگی : اے اہل دربار ! میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہےاِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ﴿30﴾
اور وہ یہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہےاَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ع﴿31﴾
یہ کہ میرے مقابلے میں سرکشی اختیار نہ کرو، بلکہ فرمانبردار اور مطیع ہو کر میرے پاس آجاؤقَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ﴿32﴾
(یہ خط سنا کر) ملکہ کہنے لگی : اے اہل دربار ! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو۔ جب تک تم لوگ میرے پاس موجود نہ ہو میں کسی معاملہ کو طے نہیں کیا کرتی۔قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ﴿33﴾
(درباری) کہنے لگے ہم بڑے طاقتور اور سخت جنگ جو ہیں مگر معاملہ کا اختیار تو آپ ہی کو ہے۔ آپ خود ہی غور کریں کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتی ہیں ؟قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ﴿34﴾
(ملکہ) کہنے لگی : بادشاہ لوگ جب کسی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے معززین کو ذلیل بنا دیتے ہیں اور یہی کچھ یہ لوگ بھی کریں گے۔وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ﴿35﴾
میں (تجربہ کے طور پر) ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ میرے بھیجے ہوئے آدمی کیا جواب لاتے ہیں۔فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ﴿36﴾
پھر جب وہ وفد (تحفہ لے کر) سلیمان کے پاس آیا تو سلیمان نے کہا : کیا تم مجھے مال کا لالچ دیتے ہو ؟ وہ تو اللہ نے مجھے (پہلے ہی) تم سے زیادہ دے رکھا ہے۔ تمہارا یہ تحفہ تمہیں ہی مبارک ہو جس پر تم اترا رہے ہو۔اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ﴿37﴾
ان کے پاس واپس چلے جاؤ ہم ان پر ایسے لشکروں سے چڑھائی کریں گے جن کا وہ مقابلہ نہ کرسکیں گے اور انھیں ذلیل کرکے وہاں سے نکال دیں گے اور وہ ہمارے سامنے پست ہوں گے۔قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ﴿38﴾
اب سلیمان نے (اپنے درباریوں سے) کہا : اے اہل دربار ! تم میں سے کون ہے جو ان کے مطیع ہو کر آنے سے پہلے پہلے ملکہ کا تخت میرے پاس اٹھا لائے ؟قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ﴿39﴾
ایک دیو ہیکل جن نے کہا : آپ کے دربار کو برخواست کرنے سے پہلے میں اسے لاسکتا ہوں۔ میں اس کام کی پوری قوت رکھتا ہوں اور امانت دار بھی ہوں۔قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ﴿40﴾
پھر ایک اور شخص، جس کے پاس کتاب کا علم تھا، کہنے لگا : میں یہ تخت آپ کو آپ کی نگاہ لوٹانے سے پہلے ہی لائے دیتا ہوں پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو پکار اٹھے : یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری ؟ اور جو شکر کرتا ہے تو اس کا شکر اس کے اپنے ہی لئے مفید ہے۔ اور اگر کوئی ناشکری کرے تو میرا پروردگار (اس کے شکر سے) بےنیاز ہے اور اپنی ذات میں بزرگ ہے۔قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ﴿41﴾
پھر (درباریوں سے) کہا : اس کے تخت کا حلیہ تبدیل کردو۔ ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا ان لوگوں سے ہے جو راہ راست پر نہیں آسکتےفَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ﴿42﴾
پھر جب ملکہ (مطیع ہو کر) آگئی تو سلیمان نے اس سے پوچھا : کیا تمہارا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ وہ کہنے لگی : یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے۔ اور ہمیں اس سے پہلے ہی حقیقت حال معلوم ہوگئی تھی اور ہم فرمانبردار ہوگئے تھے۔وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ﴿43﴾
ملکہ کو (ایمان لانے سے) ان چیزوں نے روک رکھا تھا جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿44﴾
اس ملکہ سے کہا گیا کہ محل میں چلو جب اس نے دیکھا تو سمجھی یہ پانی کا ایک حوض ہے چناچہ اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھالیا۔ سلیمان نے کہا : یہ تو شیشے کا چکنا فرش ہے۔ تب وہ بول اٹھی : اے میرے پروردگار ! میں (سورج کی پوجا کرکے) اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی ہوں اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کرلیوَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ﴿45﴾
اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ : اللہ کی عبادت کرو۔ تو اسی وقت وہ دو فریق (مومن اور کافر) بن کر جھگڑنے لگے۔قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿46﴾
(صالح نے) کہا : میری قوم کے لوگو ! تم بھلائی سے پیشتر برائی کو کیوں جلدی طلب کرتے ہو ؟ تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں طلب کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ﴿47﴾
وہ کہنے لگے ہم تو تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس سمجھتے ہیں (صالح نے) کہا : تمہاری نحوست تو اللہ کے پاس ہے بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) تم لوگ آزمائش میں پڑے ہوئے ہووَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ﴿48﴾
اور اس شہر میں نو سرغنے تھے جو ملک میں تخریب کاریاں ہی کرتے تھے اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے تھے۔قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ﴿49﴾
انہوں نے کہا : سب آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے۔ پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ اور یقینا ہم سچے ہیں۔وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿50﴾
چناچہ انہوں نے ایک چال چلی اور ہم نے ان کی چال انھیں پر لوٹا دی جس کی انھیں خبر تک نہ ہوئی۔فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿51﴾
سو دیکھو ان کی چال کا انجام کیا ہوا۔ ہم نے ان سرغنوں اور ان کی قوم سب کو تباہ کردیا۔فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿52﴾
سو یہ ہیں ان کے خالی پڑے ہوئے گھر، اس ظلم کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشان عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ﴿53﴾
اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور (نافرمانی سے) پرہیز کرتے رہے۔وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ﴿54﴾
اور لوط (کا واقعہ یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم سمجھ رکھنے کے باوجود بدکاری کے کام کرتے ہو ؟اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ﴿55﴾
کیا تم شہوت رانی کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو بلکہ تم تو جہالت کے کام کرتے ہو ؟فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ﴿56﴾
چناچہ اس کی قوم کو کوئی جواب بن نہ آیا بجز اس کے کہ انہوں نے یہ کہہ دیا : لوط اور اس کے ساتھیوں کو اپنے شہر سے نکال دو یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ﴿57﴾
چناچہ ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا۔ بجز اس کی بیوی کے جس کے لئے پیچھے رہ جانا ہم نے مقدر کردیا تھاوَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠﴿58﴾
پھر ہم نے ان پر (پتھروں کی) بارش برسائی۔ کیسی بری تھی یہ بارش جو ان لوگوں پر ہوئی جنہیں (عذاب الٰہی سے) ڈرایا گیا تھا۔قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕع﴿59﴾
آپ ان سے کہئے کہ : سب طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار ہے اور اس کے ان بندوں پر سلامتی ہو جنہیں اس نے برگزیدہ کیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ اس کا شریک بنا رہے ہیں ؟اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ﴿60﴾
بھلا آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا جس سے ہم نے پربہار باغات اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا الٰہ بھی ہے ؟ (جو ان کاموں میں اس کا شریک ہو ؟) بلکہ یہ لوگ ہیں ہی ناانصافی کرنے والےاَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ﴿61﴾
بھلا کس نے کو زمین جائے قرار بنایا اور اس کے اندر نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے (تاکہ ہچکو لے نہ کھائے) اور دو سمندروں کے درمیان ایک پردہ (حد فاصل) بنادیا ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ﴿62﴾
بھلا کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کردیتا ہے اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کے جانشین بناتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ تم لوگ تھوڑا ہی غور کرتے ہو۔اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ﴿63﴾
بھلا کون ہے ؟ جو تمہیں خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راہ دکھاتا ہے اور اپنی رحمت سے پیشتر ہواؤں کو بشارت کے طور پر بھیجتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ اللہ اس شرک سے بہت بلند ہے جو یہ لوگ کرتے ہیںاَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿64﴾
بھلا کون ہے ؟ جو خلقت کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرے گا ؟ اور کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے ؟ آپ ان سے کہئے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل لاؤ۔قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ﴿65﴾
آپ ان سے کہئے کہ : اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو کوئی بھی نہیں جانتا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کب انھیں اٹھایا جائے گابَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ع﴿66﴾
بلکہ آخرت کے بارے میں ان کے علم نے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں، بلکہ یہ اس کی نسبت شک میں ہیں بلکہ یہ اس سے اندھے ہوچکے ہیں۔وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ﴿67﴾
اور کافر یہ پوچھتے ہیں کہ : جب ہم اور ہمارے آباء و اجداد مٹی بن جائیں گے تو کیا پھر (قبروں سے) نکالے جائیں گے ؟لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿68﴾
یہ بات تو ہمیں اور اس سے پیشتر ہمارے آباء و اجداد کو بھی کہی جاتی رہی ہے۔ یہ تو بس پہلے لوگوں کے افسانے ہیں۔قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ﴿69﴾
آپ ان سے کہئے کہ : ذرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا ہوا تھا۔وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ﴿70﴾
(اے نبی !) آپ ان کے حال پر غمزدہ نہ ہوں اور نہ ہی ان کی چالوں سے دل میں تنگی محسوس کریں۔وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿71﴾
کافر یہ کہتے ہیں کہ : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ (عذاب) کب پورا ہوگا۔قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ﴿72﴾
آپ ان سے کہئے کہ : کیا عجب ہے کہ جس (عذاب) کے جلد آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ﴿73﴾
آپ کا پروردگار تو لوگوں پر بڑا فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ﴿74﴾
اور بلاشبہ تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیںوَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ﴿75﴾
اور زمین و آسمان کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین (لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی نہ ہو۔اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿76﴾
بلاشبہ یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیںوَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ﴿77﴾
اور یہ مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ﴿78﴾
آپ کا پروردگار اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ﴿79﴾
آپ اللہ پر بھروسہ کیجئے۔ یقینا آپ صریح حق پر ہیں۔اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ﴿80﴾
نہ تو آپ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ایسے بہروں کو اپنی پکار سناسکتے ہیں جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہوں۔وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴿81﴾
اور نہ ہی آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے بچا کر راہ راست پر لاسکتے ہیں آپ تو صرف ان کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں پھر فرمانبردار بن جاتے ہیںوَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ع﴿82﴾
اور جب (عذاب کی) بات پوری ہونے کا وقت آجائے گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ (فلاں فلاں) لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھےوَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ﴿83﴾
اور جس دن ہم ہر امت سے ایسے لوگوں کی ایک فوج اکٹھی کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلاتی تھی پھر ان کی گروہ بندی کی جائے گی۔حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿84﴾
یہاں تک کہ جب وہ سب آجائیں گے تو اللہ ان سے پوچھے گا کہ : تم نے میری آیات کو جھٹلایا حالانکہ علمی لحاظ سے تم نے ان کا احاطہ نہیں کیا تھا ؟ (اگر یہ بات نہیں تو) پھر تم کیا کرتے رہے۔وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ﴿85﴾
اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر (عذاب کی) بات پوری ہوجائے گی تو وہ بول بھی نہ سکیں گےاَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿86﴾
کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ہم نے رات اس لئے بنائی کہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن بنایا (تاکہ وہ کام کاج کرسکیں) اس میں بھی ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو ایمان لاتے ہیں۔وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ﴿87﴾
اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو جو کوئی بھی آسمانوں میں یا زمین میں ہوگا سب گھبرا اٹھیں گے بجز ان کے جنہیں اللہ اس ہول سے بچانا چاہے گا۔ اور یہ سب حقیر بن کر اللہ کے حضور پیش ہوجائیں گے۔وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ﴿88﴾
اس دن تو سمجھے گا کہ پہاڑ اپنی جگہ پر جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادل کی سی چال چل رہے ہوں گے اور یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ بلاشبہ تم جو کام کررہے ہو وہ اس سے خبردار ہےمَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ﴿89﴾
جو شخص اس دن بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور ایسے ہی لوگ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿90﴾
اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے (اور کہا جائے گا) تمہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جو تم کام کرتے رہے۔اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ﴿91﴾
(اے نبی ! کہہ دیجئے :) مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے مالک حقیقی کی اطاعت کروں جس نے اسے احترام بخشا اور جو ہر چیز کا مالک ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار بن کر رہوں۔وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ﴿92﴾
اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں۔ اب جو شخص راہ راست پر آتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے آتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اس سے آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوںوَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿93﴾
نیز کہہ دیجئے کہ سب طرح کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے وہ عنقریب تمہیں اپنی ایسی نشانیاں دکھائے گا جنہیں تم پہچان لو گے اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اس سے آپ کا پروردگار بیخبر نہیں۔