بصیرتِ قرآن
Baseerat-e-Quran · 12. Yusuf · Ayah 69
وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿69﴾
- وَلَمَّااور جب
- دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
- عَلٰي يُوْسُفَیوسف کے پاس
- اٰوٰٓىاس نے جگہ دی
- اِلَيْهِاپنے پاس
- اَخَاهُاپنا بھائی
- قَالَاس نے کہا
- اِنِّىْٓبیشک میں
- اَنَا اَخُوْكَمیں تیرا بھائی
- فَلَا تَبْتَئِسْسو تو غمگین نہ ہو
- بِمَااس پر جو
- كَانُوْاوہ کرتے تھے
- يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Baseerat-e-Quran
اور جب وہ یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تیرا بھائی ہوں۔ وہ جو کچھ کرتے تھے تو اس پر رنجیدہ نہ ہو۔
Tafseer · Baseerat-e-Quran
لغات القرآن آیت نمبر 69 تا 76
(اوی اس نے ٹھکانا دیا۔ (پاس بٹھایا) ( لاتبتئس تو رنجیدہ نہ ہو ) (جھز تیار کردیا) ( جھاز سامان ) (السقایۃ جس سے پانی پیا جاتا ہے۔ پیالہ ) (رحل سامان) ( اذن پکارا) ( موذن پکارنے والا ) (ایتھا اے العیر : قافلہ ) (سارقون چوری کرنے والے ) (اقبلوا وہ متوجہ ہوئے، سامنے ہوئے) ( ماذا حرف سوال، حرف استفہام) ( تفقدون تم گم پاتے ہو ) (صواع پیمانہ، جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے) ( جاء بہ جو اس کو لے آئے گا ) (حمل بعیر ایک اونٹ کا بوجھ، جتنا سامان ایک اونٹ پر آتا ہے) ( زعیم ذمہ داری لینے والا ) (تاللہ اللہ کی قسم) ( ماجئنا ہم نہیں آئے ) (ماجزاء کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) (وجد پایا گیا) ( نجزی ہم بدلہ دیتے ہیں۔ ہم سزا دیتے ہیں) ( بدا شروع کیا) ( او عیۃ سامان، بوری) ( کدنا ہم نے تدبیر کردی ) (دین الملک بادشاہ کا قانون)
تشریح : آیت نمبر 69 تا 76
گزشتہ آیات میں اس کی تفصیل ارشاد فرمائی گئی ہے کہ برادران یوسف نے اپنے والد حضرت یعقوب کو پکی قسمیں کھا کر اس بات کا یقین دلایا تھا کہ وہ اپنے بھائی بن یا مین کی ہر طرف حفاظت کریں گے۔ حضرت یعقوب کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے کہ وہ سب بھائی ایک دروازے سے داخل نہیں ہوں گے بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں گے تاکہ ان جوان اور صحتمندوں پر کسی کی نظر نہ بیٹھ جائے یا اتنے بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کچھ لوگ حسد میں مبتلا ہو کر کوئی سازش نہ کر بیٹھیں۔ چناچہ ان سب بھائیوں نے اس پر عمل کیا حضرت یوسف جو اپنے بھائی بن یا میں سے ملنے کے لئے بےچین تھے ان پر جیسے ہی حضرت یوسف کی نظر پڑی تو انہوں نے اپنے بھائی کو گلے لگا لیا، عزت کے مقام پر بٹھایا اور ان کے کان میں چپکے سے کہہ دیا کہ میں تمہارا حقیقی بھائی یوسف ہوں۔ تم بقیہ بھائیوں کی باتوں پر نہ تو دھیان دینا اور نہ کسی طرح گھبرانا کیونکہ ان کو جو کچھ کرنا تھا وہ کرچکے اب تم وہاں آرام سے رہو۔ حضرت یوسف کو بن یا میں سے ملنے کے بعد اس بات کی فکر تھی کہ میرا بھائی مجھ سے جدا نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یا مین کو ورکنے کی ایک تدبیر کی۔ شاہی پیالہ یا وہ پیمانہ جس سے لوگوں کو ناپ کر غلہ دیا جاتا تھا اس کو بن یا مین کے سامان میں رکھوا دیا۔ حضرت یوسفک و معلوم تھا کہ دین ابراہیمی کا یہ قانون ہے کہ اگر کوئی شخص چوری کرے اور سامان اس کے پاس سے برآمد ہوجائے تو وہ اس شخص کا ایک سال تک غلام بن کر رہے گا جس کی چوری کی ہے۔ حضرت یوسف کو اس بات کا اندازہ تھا کہ مصر کے قانون میں اس کی کوئی گنائش نہیں ہے صرف دین ابراہیمی کا یہ اصول ہے۔ جب برادران یوسف غلہ اور سامان لے کر روانہ ہوگئے اور ابھی کچھ ہی دور چلے تھے کہ بادشاہ مصر کے کسی آدمی نے پکار کر کہا کہ اے چورو ! رک جاؤ تم نے چوری کی ہے۔ وہ سب بائی رک گئے اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ اور کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ ان کو بتایا گیا کہ بادشاہ کا قیمتی پایلہ گم ہوگیا ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ جو بھی اس پیالہ کو لے کر آئے گا اس کو ایک اونٹ کا بوجھ یعنی غلہ انعام میں دیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ اس انعام کے سلسلے میں، میں پوری طرح ذمہ دار ہوں۔
برداران یوسف نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم نہ تو فساد کرنے والے لوگ ہیں اور نہ کسی چوری میں ملوث ہیں۔ بادشاہ کے آمیوں نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ اگر کسی نے چوری کی ہو تو اس کی تمہارے ہاں سزا کیا ہے ؟ انہوں نے دین ابراہیم کا یہ اصول بیان کردیا کہ جس کے پاس بھی چور یکا سامان نکل آئے گا وہ ایک سال تک غلام بنا کر رکھا جائے گا۔ چناچہ بادشاہ کے لوگوں نے سب سے پہلے سب بھائیوں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کی کسی کے پاس کچھ نہ نکلا جب بن یا مین کے سامان کی تلاشی لی گئی تو اس میں سے وہ شاہی پیالہ نکل آیا اور اس طرح بن یا مین بظاہر حضرت یوسف کے غلام بنا کر ان کے پاس لے آئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے دونوں بھائیوں کے ایک ساتھ رہنے کی بہترین تدبیر فرما دی۔ یقیہ واقعہ کی تفصیل تو اگلی آیات میں آرہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو اپنے سگے بھائی بن یا میں سے ملانے کے تمام اسباب پیدا فرما دیئے اور اس طرح بن یا مین کے درجہ کو بلند کردیا گیا اور فرمایا کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر علم والے پر ایک علم والے کو رکھا ہے لیکن سب جاننے والوں سے بڑا جاننے والا اللہ ہے یعنی اللہ ہی نے اپنے علم اور فضل و کرم سے بنی اسرائیل کے فلسطین سے مصر آنے کے راستے ہموار فرما دیئے۔ و جانتا ہے کہ کس کام کی کیا مصلحت ہے اور نتائج کیا ہیں۔