Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 23

  1. فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ﴿23﴾

    1. فَاَسْرِ بِعِبَادِيْتو لے چل میرے بندوں کو
    2. لَيْلًاراتوں رات
    3. اِنَّكُمْبیشک تم
    4. مُّتَّبَعُوْنَتم پیچھا کیے جانے والے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
حکم ہوا کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو، آگاہ رہو کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاسربعبادی لیلاً انکم متعبون (23) فریاد کی فوراً شنوائی ہوئی یہ فریاد بالکل برقوت تھی اس وجہ سے فوراً شنوائی ہوئی۔ قبولیت کی مب اورت ظاہر کرنے کے لئے یہا کوئی ایسا لفظ لانا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ دعا کے جواب میں حضرت موسیٰ ؑ کو یہ ہدایت ہوئی۔ حکم ہوا کہ میرے بندوں کو لے کر یہاں سے راتوں رات نکل جائو اور ساتھ ہی یہ نبیہ بھی فرما دی گئی کہ فرعونیوں کی طرف سے تمہارا تعاقب ہوگا۔ اس انتباہ کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ فرعون نے اگرچہ ان آفتوں سے تنگ آ کر جو حضرت موسیٰ ؑ کی دعائوں کے نتیجہ میں مصر پر نازل ہوئیں، حضرت موسیٰ ؑ کو چند دن کے لئے جانے کی اجازت دے دی لیکن جب حضرت موسیٰ ؑ اپنی پوری قوم سمیت روانہ ہوئے تو اس کی نیت بدل گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ اجازت دینے میں اس نے غلطی کی ہے۔ چناچہ وہ فوراً اپنی اور اپنے تمام علاقائی سرداروں کی فویں لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہوا کہ ان کو مجبور کر کے پھر واپس لائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو اس پیش آنے والی صورت حال سے ہپلے سے آگاہ کردیا تھا تاکہ کوچ و قیام میں کوئی غیر ضروری تاخیر پیش نہ آئے بلکہ وہ مقررہ پروگرام کے مطابق دریا کو عبور کرنے کی کوشش کریں۔