53. An-Najmالنجم
The Star · Meccan · 62 ayahs · 3 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ﴿1﴾
(شاہد ہیں ستارے جب کہ وہ گرتے ہیںمَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ﴿2﴾
کہ تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ گمراہ ہوا ہےوَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ﴿3﴾
اور وہ اپنے جی سے نہیں بولتا ،اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ﴿4﴾
یہ تو بس وحی ہے جو اس کو کی جاتی ہےعَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ﴿5﴾
اس کو ایک مضبوط قوتوں والے، نے تعلیم دی ہے۔ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ﴿6﴾
عقل و کردار کے توانا ، وہ نمودار ہو اوَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ﴿7﴾
اور وہ افق اعلیٰ میں تھا ،ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ﴿8﴾
پھر قریب ہوگیا اور جھک پڑا ،فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ﴿9﴾
پس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ﴿10﴾
پس اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى﴿11﴾
جو کچھ اس نے دیکھا یہ دل کی خیال آرائی نہیں ہےاَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى﴿12﴾
تو کیا تم اس سے اس چیز پر جھگڑے ہو جس کا وہ مشاہدہ کررہا ہے۔وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ﴿13﴾
اور اس نے ایک بار اور بھی اس کو اترتے دیکھاعِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى﴿14﴾
سدرۃ المنتیٰ کے پاسعِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ﴿15﴾
اسی کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے۔اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ﴿16﴾
جب کہ چھائے ہوئے تھی سدرہ کو جو چیز چھائے ہوئے تھیمَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى﴿17﴾
نہ نگاہ کج ہوئی اور نہ بےقابو۔لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى﴿18﴾
اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کے مشاہدے کیےاَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ﴿19﴾
(بھلا، کبھی غور کیا ہے لات اور عزیوَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى﴿20﴾
اور منات پر جو تیسری اور درجہ کے اعتبار سے دوسری ہے !اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى﴿21﴾
تم اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو اور اس کے لیے بیٹیاں !تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى﴿22﴾
یہ تو بڑی ہی بھونڈی تقسیم ہوئی !اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ﴿23﴾
یہ محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ چھوڑے ہیں، اللہ نے ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری، یہ لوگ محض گمان اور نفس کی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے نہایت واضح ہدایت آچکی ہےاَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ﴿24﴾
کیا انسان وہ سب کچھ پا لے گا جو وہ تمنا رکھتا ہے !فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ع﴿25﴾
سویاد رکھو کہ آخرت اور دنیا سب خدا ہی کے اختیار میں ہے۔وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى﴿26﴾
اور آسمانوں میں کتنے فرشتے ہیں جن کی سفارش ذرا بھی کام آنے والی نہیں مگر بعد اس کے کہ اللہ اجازت دے جس کو چاہے اور جس کے لیے پسند کرےاِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى﴿27﴾
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہی نے فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھ چھوڑے ہیںوَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ﴿28﴾
، حالانکہ اس باب میں ان کو کوئی علم نہیں، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور گمان کسی درجے میں بھی حق کا بدل نہیں ،فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ﴿29﴾
تو تم ان لوگوں سے اعراض کو جنہوں نے ہماری یاد دہانی سے اعراض کیا ہے اور جن کا مطلوب صرف دنیا کی زندگی ہی ہے۔ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى﴿30﴾
ان کے علم کی رسائی بس یہیں تک ہے، تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ یاب ہیں۔وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ﴿31﴾
(اور اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو کچھ آسمان اور جو کچھ زمین میں ہے کہ وہ بدلہ دے ان لوگوں کو جنہوں نے برے کام کیے ہیں ان کے کیے کا اور بدلہ دے ان لوگوں کو جنہوں نے اچھے کام کیے ہیں اچھا ،اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ع﴿32﴾
یعنی ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں اور کھلی بےحیائیوں سے بچتے رہے مگر یہ کہ کبھی کسی برائی پر پائوں پڑگئے۔ سو تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے، وہ تم کو خوب جانتا ہے جب کہ اس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور جب کہ تم اپنی نائوں کے پیٹوں میں جنین کی شکل میں رہے، تو اپنے کو پاکیزہ نہ ٹھہرائو وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے۔اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ﴿33﴾
بھلا اس کو دیکھا جس نے اعراض کیا ،وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى﴿34﴾
تھوڑا سا دیا پھر رک گیا ،اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى﴿35﴾
کیا اس کے پاس علم غیب ہے پس وہ دیکھ رہا ہے ،اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ﴿36﴾
کیا اس کو خبر نہیں ملی اس بات کی جو موسیٰ صحیفوں میں ہےوَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ﴿37﴾
اور ابراہیم کے جس نے اپنے قول پورے کر دکھائے۔اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ﴿38﴾
کہ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گیوَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ﴿39﴾
اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمائی کی ہو گیوَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪﴿40﴾
اور یہ کہ اس کی کمائی عنقریب ملاحظہ کی جائے گیثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ﴿41﴾
پھر اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گاوَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ﴿42﴾
اور یہ کہ سب کا منتہیٰ تیرے رب کی طرف ہے۔وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ﴿43﴾
اور بیشک وہی ہے جو ہنساتا اور لاتا ہےوَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ﴿44﴾
اور وہی ہے جو مارتا اور زندہ کرتا ہےوَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ﴿45﴾
اور وہی ہے جس نے جوڑے کے دونوں فرد، نر اور ناری پیدا کیےمِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪﴿46﴾
ایک بوند سے جب کہ وہ ٹپکا دی جاتی ہےوَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ﴿47﴾
اور بیشک دوبارہ اٹھانا اس کی ذمہ داری ہےوَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ﴿48﴾
اور اسی نے غنی اور سرمایہ دار کیاوَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ﴿49﴾
اور وہی شعری کا بھی رب ہے۔وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا اِ۟لْاُوْلٰىۙ﴿50﴾
اور اسی نے ہلاک کیا عاد اول کووَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ﴿51﴾
اور ثمود کو بھی، پس کسی کو بھی باقی نہ چھوڑاوَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ﴿52﴾
اور قوم نوح کو بھی ان سے پہلے، بیشک وہ نہایت ظالم اور سر کش تھےوَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ﴿53﴾
اور الٹی ہوئی بستیوں کو بھی دے مارا ،فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ﴿54﴾
پس ان کو ڈھانک لیا جس چیز نے ڈھانک لیافَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى﴿55﴾
تو تم اپنے رب کے کن کن کرشموں کے باب میں جھگڑے رہو گے۔هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى﴿56﴾
(یہ اگلے نذیروں ہی کے زمرے کا ایک نذیر ہے۔اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ﴿57﴾
قریب آنے والی قریب آگئی ہے۔لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ﴿58﴾
اللہ کے سوا اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہوسکتا۔اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ﴿59﴾
تو کیا تم اس کلام پر متعجب ہوتے ہو !وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ﴿60﴾
اور ہنستے ہو، روتے نہیں !وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ﴿61﴾
اور تم مدہوش پڑے ہو !فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩۩ع﴿62﴾
(ہوش میں آئو) اللہ ہی کو سجدہ اور اسی کی بندگی کرو)