آسان قرآن
Aasan Quran · 23. Al-Muminoon · Ayah 27
فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ﴿27﴾
- فَاَوْحَيْنَآتو ہم نے وحی بھیجی
- اِلَيْهِاس کی طرف
- اَنِکہ
- اصْنَعِتم بناؤ
- الْفُلْكَکشتی
- بِاَعْيُنِنَاہماری آنکھوں کے سامنے
- وَوَحْيِنَااور ہمارا حکم
- فَاِذَاپھر جب
- جَآءَآجائے
- اَمْرُنَاہمارا حکم
- وَفَارَ التَّنُّوْرُاور تنور ابلنے لگے
- فَاسْلُكْتو چلا لے (رکھ لے)
- فِيْهَااس میں
- مِنْسے
- كُلٍّہر (قسم)
- زَوْجَيْنِجوڑا
- اثْنَيْنِدو
- وَاَهْلَكَاور اپنے گھروالے
- اِلَّاسوا
- مَنْجو۔ جس
- سَبَقَپہلے ہوچکا
- عَلَيْهِاس پر
- الْقَوْلُحکم
- مِنْهُمْان میں سے
- وَلَا تُخَاطِبْنِيْاور نہ کرنا مجھ سے بات
- فِيمیں۔ بارہ میں
- الَّذِيْنَ ظَلَمُوْاوہ جنہوں نے ظلم کیا
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- مُّغْرَقُوْنَغرق کیے جانے والے ہیں
Translation · Aasan Quran
چنانچہ ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ : تم ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے، اور تنور ابل پڑے۔ (14) تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اسے بھی اس کشتی میں سوار کرلینا۔ (15) اور اپنے گھر والوں کو بھی، سوائے ان کے جن کے خلاف پہلے ہی حکم صادر ہوچکا ہے۔ (16) اور ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا، یہ بات طے ہے کہ یہ سب غرق کیے جائیں گے۔
Tafseer · Aasan Quran
14: تنور چولھے کو بھی کہتے ہیں اور سطح زمین کو بھی، بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح اس طرح شروع ہوا تھا کہ ایک چولھے سے پانی ابلنے لگا، اوپر سے بارش شروع ہوگئی اور رفتہ رفتہ وہ ایک ہولناک طوفان میں بدل گیا، حضرت نوح ؑ کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ سورة ہود (11۔ 25 تا 48) میں گزرچکا ہے۔
15: تاکہ ضرورت کے جانوروں کی نسل باقی رہے
16: اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے خاندان کے وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائے تھے، اور نہ ان کا ایمان لانا مقدر تھا، مثلاً ان کا بیٹا کنعان جس کا واقعہ سورة ہود میں گذر چکا ہے۔