آسان قرآن
Aasan Quran · 59. Al-Hashr · Ayah 6
وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿6﴾
- وَمَآ اَفَآءَ اللّٰهُاور جو دلوایا اللہ نے
- عَلٰي رَسُوْلِهٖاپنے رسولوں کو
- مِنْهُمْان سے
- فَمَآتو نہ
- اَوْجَفْتُمْتم نے دوڑائے تھے
- عَلَيْهِان پر
- مِنْ خَيْلٍگھوڑے
- وَّلَا رِكَابٍاور نہ اونٹ
- وَّلٰكِنَّ اللّٰهَاور لیکن (بلکہ) اللہ
- يُسَلِّطُمسلط فرماتا ہے
- رُسُلَهٗاپنے رسولوں کو
- عَلٰيپر
- مَنْ يَّشَآءُ ۭجس پر وہ چاہتا ہے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- عَلٰي كُلِّ شَيْءٍہر شے پر
- قَدِيْرٌقدرت رکھتا ہے
Translation · Aasan Quran
اور اللہ نے اپنے رسول کو ان کا جو مال بھی فیئ کے طور پر دلوایا۔ اس کے لیے تم نے نہ اپنے گھوڑے دوڑائے، نہ اونٹ، لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہتا ہے، تسلط عطا فرما دیتا ہے۔ (5) اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
Tafseer · Aasan Quran
5: فئی اس مال کو کہتے ہیں جو کوئی دشمن ایسی حالت میں چھوڑ جائے کہ مسلمانوں کو اس سے باقاعدہ لڑائی کرنی نہ پڑی ہو، بنو نضیر کے یہودیوں کو حضور اقدس ﷺ نے اپنا مال و دولت ساتھ لے جانے کی اجازت دی تھی، اس لئے وہ جو کچھ ساتھ لے جاسکتے تھے لے گئے ؛ لیکن ان کی جو زمینیں تھیں ظاہر ہے کہ وہ ساتھ نہیں لے جاسکتے تھے، اس لئے وہ چھوڑ کر گئے یہ زمینیں مال فئی کے طور پر مسلمانوں کے قبضے میں آئیں، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی یہ نعمت یاد دلا رہے ہیں کہ یہ مال فئی اللہ تعالیٰ نے اس طرح عطا فرمادیا کہ مسلمانوں کو باقاعدہ لڑائی کی محنت بھی اٹھانی نہیں پڑی، آیت میں گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانے سے مراد لڑائی کی کاروائی ہے، اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس فئی کے مصارف بیان فرمائے ہیں کہ اسے کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔