Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Muminoon : 28
اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ
اِنَّكَ : بیشک تم لَا تَهْدِيْ : ہدایت نہیں دے سکتے مَنْ اَحْبَبْتَ : جس کو تم چاہو وَلٰكِنَّ اللّٰهَ : اور لیکن (بلکہ) اللہ يَهْدِيْ : ہدایت دیتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو وہ چاہتا ہے وَهُوَ : اور وہ اَعْلَمُ : خوب جانتا ہے بِالْمُهْتَدِيْنَ : ہدایت پانے والوں کو
تمہارے مال اور تمہاری جان میں تمہاری آزمائش ہونی ہے اور تمہیں ان لوگوں کی طرف سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی اور ان لوگوں کی طرف سے جنہوں نے شرک کیا بہت سی تکلیف دہ باتیں سننی پڑیں گی۔ اور اگر تم ثابت قدم رہے اور تم نے تقوی کو ملحوظ رکھا تو بیشک یہ چیز عزیمت کے احوال میں سے ہے۔
مسلمانوں کو صبر اور تقوی کی تلقین : لَتُبْلَوُنَّ فِيْٓ اَمْوَالِكُمْ الایہ، یہ مسلمانوں کو معاندین کی تمام سرگرمیوں کے علی الرغم صبر اور تقوی پر جمے رہنے کی تلقین ہے۔ فرمایا کہ اہل کتاب اور مشرکین کے ہاتھوں تمہیں جانی و مالی آزمائشیں بھی پیش آنی ہیں اور ان کی طرف سے تمہیں ابھی بہت سی دل آزار باتیں بھی سننی پڑیں گی۔ یہ در اصل تمہارے صبر اور تقوی کا امتحان ہے۔ اگر ان باتوں کے باوجود تم اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور تم نے حدود الٰہی کا احترام ملحوظ رکھا تو یہی وہ عزیمت کا مقام ہے جو انبیائے اولو العزم اور ان کے جاں نثاروں کا خاص حصہ ہے اور جو بالآخر اس راہ میں کامیابی کی کلید ہے۔
Top