Al-Quran-al-Kareem - At-Tawba : 114
فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ
فَاَخَذَتْهُمُ : پس انہیں آپکڑا الصَّيْحَةُ : چنگھاڑ بِالْحَقِّ : (وعدہ) حق کے مطابق فَجَعَلْنٰهُمْ : سو ہم نے انہیں کردیا غُثَآءً : خس و خاشاک فَبُعْدًا : دوری (مار) لِّلْقَوْمِ : قوم کے لیے الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع)
تو انھیں چیخ نے حق کـــــــــــــــے ســــــاتھ آپکڑا۔ پس ہم نے انھیں کوڑا کرکٹ بنادیا۔ سو ظالم لوگوں کے لیے دوری ہو۔
فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بالْحَقِّ : یعنی جو سزا انھیں دی گئی تھی وہ عین عدل و انصاف کے مطابق تھی، ان پر کوئی زیادتی نہیں کی گئی۔ بعض نے ”فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بالْحَقِّ“ کا ترجمہ یہ کیا ہے : ”آخر سچے وعدے کے مطابق ایک چیخ نے انھیں آدبوچا۔“ یعنی وہ وعدہ جو ”عَمَّا قَلِيْلٍ لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَ“ کے ضمن میں پایا جاتا ہے۔ ”اَلْحَقُّ“ سے مراد قطعی امر بھی ہوسکتا ہے، جسے کوئی روک نہ سکتا ہو۔ (روح)
Top